Swift کی بلندی کی کوشش ختم، LINK مشن پیچھے ہٹ گیا

LINK خلائی روبوٹ کے تکنیکی مسائل کے بعد اسے Swift سیٹلائٹ کو بلند کرنے کے بجائے ٹیکنالوجی کے مظاہروں پر مرکوز کر دیا گیا ہے۔

  • LINK مشن نے مواصلات اور رخ کنٹرول مسائل کے بعد Swift کا مدار بلند کرنے کی کوشش ترک کر دی۔
  • LINK مشن جولائی 2026 میں کوجالین ایٹول سے پیگاسس XL راکٹ سے لانچ کیا گیا۔
  • ناسا نے LINK مشن میں شمولیت ختم کر دی، جبکہ کیٹالسٹ اسپیس اسے اپنا پہلا تجارتی خلائی روبوٹ قرار دیتی ہے۔
  • LINK میں زینون پروپلشن اور تین روبوٹک بازو تھے، جو Swift کو محفوظ طریقے سے پکڑنے کے لیے لچک دیتے تھے۔
  • مشن اب ٹیکنالوجی کے مظاہروں پر مرکوز ہے، جو مستقبل کی خلائی سروسنگ ٹیکنالوجی کے لیے قیمتی سبق فراہم کرتا ہے۔

کیا ہوا

ناسا اور کیٹالسٹ اسپیس کے درمیان تیار کردہ LINK خلائی روبوٹ نے خلا میں پہنچنے کے بعد مواصلات اور رخ کنٹرول میں مسائل کا سامنا کیا۔ اس کے نتیجے میں Swift سیٹلائٹ کو پکڑ کر اس کا مدار بلند کرنے کی کوشش ترک کر دی گئی اور مشن کو محدود کر دیا گیا۔

ہم کیا جانتے ہیں

Swift ایک خلائی دوربین ہے جسے نومبر 2004 میں لانچ کیا گیا تھا اور یہ زمین کے نچلے مدار میں تقریباً 300 کلومیٹر کی بلندی پر موجود ہے۔ اس کے مدار کو بلند کرنے کی LINK کی کوشش بغیر کسی اضافے کے ختم ہو گئی۔

LINK نامی خلائی جہاز جولائی 2026 میں بحرالکاہل کے جزیرے کوجالین ایٹول، جمہوریہ جزائر مارشل، سے نارتھروپ گرومین کے پیگاسس XL راکٹ کے ذریعے لانچ کیا گیا۔

خلاء میں پہنچنے کے بعد LINK کو وقفے وقفے سے مواصلاتی قطع رابطے اور رخ کنٹرول کے مسائل درپیش آئے۔

ان مسائل کے بعد ناسا اور کیٹالسٹ اسپیس نے مشن کو کم کرنے پر اتفاق کیا، اور LINK اب Swift کو پکڑنے یا اس کا مدار بلند کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

کیٹالسٹ اسپیس، جو فلیگ سٹاف، ایریزونا میں واقع ہے، نے ناسا کے چھوٹے کاروباری تحقیق کے پروگرام کے تحت یہ مشن انجام دیا اور ڈیزائن، تعمیر، تجربے اور لانچ میں تقریباً ایک سال لگا۔

ناسا نے باضابطہ طور پر LINK مشن میں اپنی شمولیت ختم کر دی، جبکہ کیٹالسٹ اسپیس نے اسے اپنا پہلا تجارتی خلائی روبوٹ قرار دیا۔

LINK خود ایک زینون سے چلنے والے پروپلشن سسٹم اور تین روبوٹک بازوؤں سے لیس ہے، جو اسے Swift کو محفوظ طریقے سے پکڑنے میں لچک فراہم کرتے تھے۔

مشن اب ٹیکنالوجی کے مظاہرے انجام دینے پر مرکوز ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

یہ مشن خلا میں تجارتی روبوٹس کی کارروائیوں میں درپیش تکنیکی مشکلات کو ظاہر کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ پہلا تجارتی خلائی روبوٹ ہونے کی حیثیت سے مستقبل کی سروسنگ ٹیکنالوجی کے لیے قیمتی سبق فراہم کرتا ہے۔

آگے کیا ہوگا

مشن کی نئی ترجیح کے تحت LINK خلائی جہاز اب Swift کو بلند کرنے کی بجائے ٹیکنالوجی کے مظاہرے انجام دے گا۔

جن باتوں کا ہمیں یقین نہیں

  • Swift کے مدار کی بلندی سے متعلق اصل ٹائم لائن واضح نہیں ہے۔
  • LINK کے تکنیکی مسائل کی تفصیلات محدود ہیں۔

ذرائع

  1. 1.NASA News Releases
  2. 2.Ars Technica — Space

یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے