چارلی پروٹو ٹائپ نے 8 دن کے صحرائی تجربے میں 220 میٹر طے کیے

یہ روبوٹک گاڑی، جو روزالینڈ فرینکلن روور جیسا سافٹ ویئر استعمال کرتی ہے، نے 1200 کلومیٹر دور ٹیورن میں موجود سائنس ٹیم کی ہدایات پر عمل کیا۔

  • ایئربس کا چارلی پروٹو ٹائپ تبرناس صحرا میں 20 روزہ مہم کے 8 دنوں میں 220 میٹر چلا۔
  • چارلی نے 1200 کلومیٹر دور ROCC ٹیورن میں سائنس ٹیم کی ہدایات پر عمل کیا۔
  • نیویگیشن کی غلطی 1 فیصد سے کم رہی؛ بارش نے صحرائی تجربات میں خلل ڈالا۔
  • یہ آزمائش روزالینڈ فرینکلن روور کے ESA سافٹ ویئر کی درستگی اور خودکار آپریشن کی صلاحیت دکھاتی ہے۔
  • روزالینڈ فرینکلن روور کا مقصد قدیم جرثومیاتی زندگی کے سراغ تلاش کرنا ہے اور یہ 2030 میں لینڈ کرے گا۔

کیا ہوا

ایئربس کا بنایا ہوا پروٹو ٹائپ چارلی، جنوب مشرقی اسپین کے تبرناس صحرا میں 20 روزہ تجرباتی مہم کے دوران 8 دنوں میں 220 میٹر کا سفر طے کر گیا۔

اس نے 1200 کلومیٹر دور ٹیورن، اٹلی میں واقع روور آپریشنز کنٹرول سینٹر (ROCC) میں موجود سائنس ٹیم کی ہدایات پر عمل کیا۔

ہم کیا جانتے ہیں

چھٹے دن، چارلی نے بغیر آپریٹر کے 60 میٹر سے زیادہ کا سفر طے کیا۔

نیویگیشن کی غلطی 1 فیصد سے کم رہی۔

ٹیموں نے ایک ڈیجیٹل ایلیویشن نقشے (digital elevation map) کی مدد سے تصدیق کی کہ ڈھلوان معمولی سی تھی۔

بارش نے صحرا میں تجربات میں خلل ڈالا۔

چارلی وہی رہنمائی، نیویگیشن اور کنٹرول سافٹ ویئر استعمال کر رہا تھا جو روزالینڈ فرینکلن روور میں استعمال ہوگا۔

روزالینڈ فرینکلن روور کا بنیادی مشن زندگی کے شواہد کی تلاش ہے؛ اس کے سائنسی آلات PanCam، CLUPI، Enfys اور WISDOM قدیم جرثومیاتی سرگرمیوں کے سراغ کا پتہ لگانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ ESA کا رہنمائی، نیویگیشن اور کنٹرول سافٹ ویئر انتہائی درست اور خودکار آپریشن کے قابل ہے۔ چاند پر بھیجنے والے روورز کے لیے ایسی صلاحیتیں نہایت اہم ہیں۔

پس منظر

روزالینڈ فرینکلن روور ایک ایسا مشن ہے جس کا مقصد قدیم جرثومیاتی زندگی کے سراغ تلاش کرنا ہے۔ یہ روور 2030 میں لینڈ کرے گا۔

آگے کیا ہوگا

روزالینڈ فرینکلن روور 2030 میں اپنی منزل پر لینڈ کرے گا۔

جن باتوں کا ہمیں یقین نہیں

  • بارش نے تجربے میں خلل ڈالا، جو چاند کے ماحول میں ممکن نہیں۔

ذرائع

  1. 1.ESA Human and Robotic Exploration

یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے