واروک کی غیر سفید سفید بونوں کے رنگوں کی تحقیق
یونیورسٹی آف واروک کی قیادت والی ٹیم نے کمپیوٹر ماڈلز سے ثبوت دیے کہ کچھ سفید بون ستارے سفید کے بجائے دوسرے رنگوں میں نظر آ سکتے ہیں۔
پس منظر
- یونیورسٹی آف واروک کی قیادت والی تحقیق نے غیر سفید سفید بونوں کے رنگوں کا ثبوت پیش کیا۔
- مطالعے میں زمین سے 20 پارسیک کے فاصلے تک 151 سفید بونوں کے کمپیوٹر ماڈلز بنائے گئے۔
- تحقیق کے مطابق 3.3 فیصد سفید بون زرد، سبز، فیروزی، گلابی یا جامنی نظر آ سکتے ہیں۔
- کاربن والی فضا گلابی یا جامنی، اور ٹھنڈے ہائیڈروجن و ہیلیم والے سفید بون نیلے یا فیروزی ہو سکتے ہیں۔
- یہ نتائج RAS Techniques and Instruments میں شائع ہوئے اور ستاروں کے رنگ و درجہ حرارت کی تشریح میں مددگار ہیں۔
کیا ہوا
حال ہی میں یونیورسٹی آف واروک کی قیادت میں ایک تحقیقی ٹیم نے غیر سفید سفید بون ستاروں کے رنگوں کے ثبوت پیش کیے۔ ماہرینِ فلکیات نے دریافت کیا کہ کچھ سفید بون زرد، سبز، فیروزی، گلابی یا جامنی نظر آ سکتے ہیں۔
ہم کیا جانتے ہیں
یونیورسٹی آف واروک نے تحقیقی ٹیم کی قیادت کی، اور یہ مطالعہ RAS Techniques and Instruments میں شائع ہوا۔
محققین نے کمپیوٹر ماڈلز استعمال کیے اور زمین سے 20 پارسیک کے فاصلے تک موجود 151 سفید بونوں کا انتخاب کیا؛ انتخاب زیادہ کثیف فضاؤں کی بنیاد پر تھا۔
مطالعے میں کاربن، کیلشیم اور سوڈیم کے اثرات جانچے گئے۔ پانچ ستاروں میں غیر سفید رنگ ملے، جن میں دو زرد اور تین گلابی تھے۔
تحقیق کے مطابق 3.3 فیصد سفید بون غیر سفید رنگ ظاہر کر سکتے ہیں۔ کاربن والی فضا گلابی یا جامنی، ٹھنڈے ہائیڈروجن اور ہیلیم والے سفید بون فیروزی یا نیلے، اور سیاروں کے ملبے والے سفید بون سبز نظر آ سکتے ہیں۔
سفید بون چھوٹے اور مدھم ستارے ہیں، جو سورج جیسے ستارے کے ایندھن ختم ہونے کے بعد باقی رہ جاتے ہیں؛ کچھ آج رات نظر آنے کے لیے بھی بہت مدھم ہیں۔
ستاروں میں شامل ہونے والے معمولی عناصر ستاروی فضا سے تعامل کر کے عام طور پر سفید رنگ کو بدل سکتے ہیں۔
کائنات میں کئی اقسام کے ستارے موجود ہیں، اور ستاروں کے رنگ عموماً ان کی سطح کے درجہ حرارت پر منحصر ہوتے ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
یہ رپورٹ قمری صنعت کے کسی مشن یا وسائل کے بارے میں کوئی نیا انکشاف نہیں کرتی، اس لیے براہِ راست عملی اثر بیان نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم سفید بونوں کی فضاؤں میں عناصر، سیاروں کا ملبہ، اور ستاروں کے رنگ و درجہ حرارت کا تعلق خلائی مشاہدات کی تشریح کے لیے اہم ہے۔
جن باتوں کا ہمیں یقین نہیں
- حقائق میں کوئی تاریخ یا سال نہیں دیا گیا؛ وقت کا اشارہ صرف 'حال ہی میں' ہے۔
ذرائع
یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے