سوئفٹ مشن ختم، فضا میں واپسی متوقع

نیل گیہرلز سوئفٹ رصد گاہ کا سائنسی مشن ختم ہو چکا ہے اور اگلے چند ہفتوں میں زمین کی فضا میں واپسی متوقع ہے۔

  • ناسا کا سوئفٹ مشن ختم ہو چکا ہے اور اگلے چند ہفتوں میں زمین کی فضا میں واپسی متوقع ہے۔
  • سوئفٹ نے 2,000 سے زیادہ گاما رے برسٹس اور 1,400 سے زیادہ سپرنووا دھماکے دیکھے۔
  • سوئفٹ کے اعداد و شمار تقریباً 7,000 شائع شدہ سائنسی مقالات میں معاون رہے۔
  • رصد گاہ کا ابتدائی مشن 2 سال کا تھا، مگر یہ دس گنا سے زیادہ عرصے تک فعال رہا۔
  • ناسا موجودہ خلائی دوربینوں کے بیڑے کو استعمال کرنے اور بڑھانے کی صلاحیت پر غور کر رہا ہے۔

کیا ہوا

نیل گیہرلز سوئفٹ رصد گاہ کا سائنسی مشن ختم ہو چکا ہے۔ سوئفٹ مشن ختم ہو چکا ہے۔ اگلے چند ہفتوں میں اس کے زمین کی فضا میں دوبارہ داخل ہونے کی توقع ہے۔

ہم کیا جانتے ہیں

سوئفٹ زمین کی سطح سے 275 کلومیٹر سے کم بلندی پر مدار میں ہے، اور زیادہ فضائی کشش دوربینوں کو فلکیاتی ہدفوں پر مسلسل مرکوز رہنے سے روکتی ہے۔

سوئفٹ کا ابتدائی دورانیہ 2 سال تھا، لیکن یہ دس گنا سے زیادہ عرصے تک فعال رہا۔

مشن نے 2,000 سے زیادہ گاما رے برسٹس کا مشاہدہ کیا اور 1,400 سے زیادہ سپرنووا دھماکوں کا مطالعہ کیا۔

سوئفٹ کے اعداد و شمار تقریباً 7,000 شائع شدہ سائنسی مقالات میں معاون رہے۔

یہ کثیر طولِ موج رصد گاہ تھی، جس میں بصری/بالائے بنفشی اور ایکس رے دوربینیں ہم سمت تھیں۔

سوئفٹ نے بلیک ہولز کے ہاتھوں ستاروں کی تباہی دیکھی، فعال کہکشاؤں کی نگرانی کی، تمام آسمانی ایکس رے سروے کیا، اور سیارچوں اور دم دار ستاروں کا مشاہدہ کیا۔

ناسا موجودہ خلائی دوربینوں کے بیڑے کو استعمال کرنے اور بڑھانے کی صلاحیت پر غور کر رہا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

چاند کی صنعت پر نظر رکھنے والے قارئین کے لیے ناسا کے خلائی مشاہداتی بیڑے کا انتظام اہم ہے، کیونکہ ناسا موجودہ خلائی دوربینوں کو استعمال کرنے اور بڑھانے کی صلاحیت پر غور کر رہا ہے۔ سوئفٹ مشن کا ختم ہونا اسی صورتحال کی ایک مثال ہے۔

آگے کیا ہوگا

اگلے چند ہفتوں میں سوئفٹ کے زمین کی فضا میں دوبارہ داخل ہونے کی توقع ہے۔

جن باتوں کا ہمیں یقین نہیں

  • اعادہ داخلے کی درست تاریخ نہیں دی گئی؛ صرف اگلے چند ہفتوں کا ذکر ہے۔

ذرائع

  1. 1.NASA News Releases
  2. 2.Space.com

یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے