ناسا کی مریخ پر خلائی لباس کے مواد کی گرد جانچ
ناسا نے پرسورینس روور پر بھیجے گئے خلائی لباس کے مواد کے نمونوں پر مریخی گرد کا معائنہ کیا؛ ذرات بہت باریک نکلے اور مختلف مواد پر چپکنے میں فرق دیکھا گیا۔
- ناسا نے خلائی لباس کے پانچ نمونے پرسورینس روور پر بھیجے تاکہ مریخ کی سطح پر گرد کا اثر دیکھا جا سکے۔
- SHERLOC اور PIXL نے گرد ذرات کا سائز اور جمع ہونے کی مقدار ماپی؛ تقریباً 100 نینو میٹر والے انتہائی باریک ذرات بھی پائے گئے۔
- جانچ میں بعض مواد پر کم گرد جمع ہونے کا فرق سامنے آیا، جو سطحی مشنوں میں مواد کے انتخاب کو اہم بناتا ہے۔
- مریخی گرد اتنی باریک ہو سکتی ہے کہ پھیپھڑوں تک پہنچے اور خون میں داخل ہو جائے۔
- یہ نتائج مستقبل کے مریخ مشنوں کے لیے لباس، رہائشی ماڈیولز، گرد ہٹانے اور عملے کی صحت کے معیارات بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
کیا ہوا
ناسا نے پرسورینس روور کے ساتھ خلائی لباس کے مواد کے نمونے مریخ بھیجے تاکہ سیارے کی سطح پر ان کی کارکردگی دیکھی جا سکے۔ روور کے آلات نے ان نمونوں پر جمع ہونے والی مریخی گرد کی پیمائش کی۔ جانچ میں بعض مواد پر کم گرد جمع ہونے کا فرق بھی سامنے آیا۔
ہم کیا جانتے ہیں
ناسا نے خلائی لباس کے مواد کے 5 نمونے مریخ پر بھیجے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ وہ سیارے کی سطح پر کس طرح قائم رہتے ہیں۔ یہ ٹکڑے تین چوتھائی انچ (20 ملی میٹر) مربع تھے۔
SHERLOC پرسورینس کی روبوٹک آرم پر موجود ایک آلہ ہے۔ ٹیم نے SHERLOC کے کیلیبریشن ٹارگٹ پر ٹیفلون اور ویکٹران کے ٹکڑوں کا معائنہ کیا۔ PIXL کے کیلیبریشن ٹارگٹ میں ٹیفلون اور بیسالٹک گلاس کا نمونہ شامل تھا، اور ٹیفلون میں ایسے عناصر نہیں ہوتے جنہیں PIXL براہِ راست پتہ لگا سکے۔
PIXL نے 2.5 مائیکرو میٹر سے کم باریک ذرات اور تقریباً 100 نینو میٹر کے انتہائی باریک ذرات پائے۔ PIXL کے ٹیفلون ٹارگٹ اور SHERLOC کے ویکٹران ٹکڑے پر ذرات کا اوسط سائز تقریباً 2 مائیکرو میٹر تھا، جبکہ PIXL کی بیسالٹک گلاس اور SHERLOC کے ٹیفلون ٹکڑے پر ذرات تقریباً 100 سے 300 نینو میٹر تھے۔
جامد بجلی بظاہر یہ طے کرتی ہے کہ کس سائز کے گرد ذرات کس سطح پر چپکتے ہیں۔ سب سے باریک ذرات برسوں تک چلنے اور ڈرلنگ کے باوجود چپکے رہے۔ SHERLOC کے ٹیفلون خلائی لباس کے نمونے جیسے نامیاتی پولیمر باریک گرد آسانی سے جمع کرتے ہیں، جبکہ تحقیق میں بعض مواد کم گرد رکھتے پائے گئے۔
مریخی گرد کے ذرات اتنے باریک ہو سکتے ہیں کہ پھیپھڑوں تک پہنچیں اور خون میں داخل ہو جائیں۔ مریخ کے دانے چاند کے دانوں سے کم گھساؤ والے ہیں، لیکن ان میں سلفر، کلورین اور لوہا زیادہ ہے اور یہ چاند کی گرد سے زیادہ سلیکا رکھتے ہیں۔ علاقائی اور عالمی گرد آلود طوفان ان ذرات کو پوری فضا میں گردش دیتے رہ سکتے ہیں۔
اپولو مشنوں کے دوران چاند کی گرد نے ویزروں کو خراشیں پہنچائیں، خلائی لباس کی بیرونی تہوں کو کمزور کیا اور سیل خراب کیے۔ بعض ارکانِ عملے نے ہے فیور جیسی علامات کی اطلاع دی۔
یہ کیوں اہم ہے
چاند اور مریخ دونوں کی گرد مشنوں کے لیے عملی خطرہ ہے۔ اپولو مشنوں میں قمری گرد نے سازوسامان کو نقصان پہنچایا اور بعض ارکانِ عملے میں علامات دیکھی گئیں، جبکہ مریخی گرد اتنی باریک ہو سکتی ہے کہ پھیپھڑوں تک پہنچے اور خون میں داخل ہو جائے۔
یہ نتائج مستقبل کے ناسا مریخ مشنوں کے لیے خلائی لباس، رہائشی ماڈیولز، گرد ہٹانے کے طریقوں اور عملے کی صحت کے معیارات کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ چونکہ بعض مواد کم گرد رکھتے ہیں، اس لیے سطحی مشنوں میں مواد کا انتخاب اہم ہو جاتا ہے۔
ذرائع
یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے