میفیوس-17 راکٹ نے 300 کلومیٹر بلندی تک پرواز کی، اخراج کی پیمائش کا نیا تصور
ای ایس اے اور ڈی ایل آر کی شراکت میں فالکن 20E طیارے نے راکٹ کے دھوئیں میں اڑ کر گیسوں کی پیمائش کی۔
- میفیوس-17 راکٹ سویڈن کے ایس رینج سے روانہ ہوا اور تقریباً 300 کلومیٹر کی بلندی تک پہنچا۔
- راکٹ میں ٹھوس پروپیلنٹ پر چلنے والا ریڈ کائٹ انجن استعمال ہوا۔
- فالکن 20E طیارے نے راکٹ کے اخراج کے دھوئیں میں پرواز کر کے براہ راست پیمائش کا تصور ثابت کیا۔
- یہ مہم ESA اور DLR کی شراکت میں اخراج کی پیمائش کے لیے تصور کا ثبوت تھی۔
- ناسا نے زمینی سطح پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کا پتہ لگانے والے آلات کے ساتھ شرکت کی۔
کیا ہوا
میفیوس-17 راکٹ ایس رینج، سویڈن سے روانہ ہوا اور 16 منٹ بعد زمین پر واپس اتر گیا۔ یورپی خلائی ایجنسی (ESA) اور جرمن ایرو اسپیس سینٹر (DLR) کی شراکت میں فالکن 20E تحقیقاتی طیارے نے راکٹ کے اخراج کی پیمائش کی۔
ہم کیا جانتے ہیں
میفیوس-17 راکٹ ایس رینج، سویڈن سے روانہ ہوا اور تقریباً 300 کلومیٹر کی بلندی تک پہنچا۔ پرواز کے 16 منٹ بعد یہ لانچ پیڈ سے تقریباً 70 کلومیٹر دور زمین پر واپس اتر گیا۔
راکٹ میں ریڈ کائٹ انجن استعمال ہوا جو ٹھوس پروپیلنٹ پر چلتا ہے۔
مشن کا پے لوڈ مائیکرو گریویٹی میں مواد اور حیاتیاتی سائنسز کے تجربات اور ٹیکنالوجی کی جانچ پر مشتمل تھا۔
یورپی خلائی ایجنسی (ESA) اور جرمن ایرو اسپیس سینٹر (DLR) نے راکٹ کے اخراج کی پیمائش کے لیے فائر وال پراجیکٹ شروع کیا، جس کا مقصد ایک تصور تیار کرنا ہے۔ اس مہم کو تصور کا ثبوت (proof of concept) قرار دیا گیا۔
ناسا نے زمینی سطح پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کا پتہ لگانے والے آلات کے ساتھ شرکت کی۔
فالکن 20E تحقیقاتی طیارہ راکٹ کے اخراج کے دھوئیں میں موجود گیسوں اور ذرات کی پیمائش کرنے والے آلات سے لیس تھا۔ اس نے راکٹ لانچ سے تقریباً 20 منٹ پہلے پرواز بھری اور 2 سے 6 کلومیٹر کی بلندیوں پر اڑان بھرتے ہوئے راکٹ کے اخراج کے دھوئیں میں سے گزرا، بعد میں بحفاظت لینڈ کر گیا۔
یہ کیوں اہم ہے
فالکن 20E طیارے نے راکٹ کے دھوئیں میں کامیابی سے پرواز کر کے اخراج کی براہ راست پیمائش کا تصور ثابت کر دیا۔ ای ایس اے، ڈی ایل آر اور ناسا جیسی بڑی خلائی ایجنسیوں کی شمولیت اس کوشش کو خلائی تحقیق میں ماحولیاتی نگرانی کی جانب ایک قدم کے طور پر اہم بناتی ہے۔
ذرائع
یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے