چینی خلائی پروگرام کے ۱۹۵۶ تا ۲۰۲۶ سنگِ میل
پس منظر
- چانگ ای-6 مشن کی مکمل کامیابی ۲۵ جون ۲۰۲۴ کو اعلان ہوئی، یہ چاند کی دور کی جانب سے نمونے واپسی کی پہلی کامیابی ہے۔
- لانگ مارچ-10B کی ۱۰ جولائی ۲۰۲۶ کی پرواز میں راکٹ کے پہلے مرحلے کی کنٹرول شدہ واپسی اور سمندری جال بازیابی کی تفصیل شامل ہے۔
- بین الاقوامی قمری تحقیقی اسٹیشن آرٹیمس معاہدوں کا متبادل ڈھانچہ ہے اور اس کے لیے ۱۷ ممالک و تنظیموں سے معاہدے ہیں۔
- چانگ ای-7 کو چاند کے جنوبی قطب پر پانی کی تلاش کے لیے بھیجنے کا منصوبہ درج ہے۔
- بیڈو-3 کے بنیادی پرزوں کی مقامی شرح ۱۰۰ فیصد ہے، جبکہ بیڈو صنعت کی پیداوار ۶۰۰ ارب یوآن سے زائد ہے۔
کیا ہوا
یہ پس منظر ۸ اکتوبر ۱۹۵۶ کو وزارتِ دفاع کی پانچویں تحقیقاتی اکادمی کے قیام سے شروع ہونے والے چینی خلائی پروگرام کا جائزہ ہے۔
اس میں ۲۴ اپریل ۱۹۷۰ کی کامیاب مصنوعی سیارہ پرواز اور ۴ جون ۲۰۲۴ کو شروع ہونے والے چاند کی دور کی جانب سے نمونے واپسی مشن کا ذکر ہے۔
۲۵ جون ۲۰۲۴ کو مشن کی مکمل کامیابی کا اعلان درج ہے، جبکہ ۱۰ جولائی ۲۰۲۶ کی لانچ اور بازیابی کی تفصیل بھی شامل ہے۔
ہم کیا جانتے ہیں
۸ اکتوبر ۱۹۵۶ کو وزارتِ دفاع کی پانچویں تحقیقاتی اکادمی کے باقاعدہ قیام کا اعلان درج ہے، اور ۲۴ اپریل ۱۹۷۰ کو ڈونگ فانگ ہونگ-1 مصنوعی سیارہ کامیابی سے چھوڑا گیا۔
چانگ ای-6 مشن ۴ جون ۲۰۲۴ کو چھوڑا گیا؛ اس کا ایسنڈر چاند کی دور کی جانب سے نمونے لے کر اٹھا اور مطلوبہ چاند گرد مدار تک پہنچا۔ ۲۵ جون ۲۰۲۴ کو مشن کی مکمل کامیابی کا اعلان ہوا، اور یہ چاند کی دور کی جانب سے نمونے واپسی کی پہلی کامیابی بتائی گئی ہے۔
لانگ مارچ-10B کے بارے میں ۱۰ جولائی ۲۰۲۶ کی پرواز اور ہینان کمرشل اسپیس لانچ سائٹ درج ہے؛ اسے چین کی راکٹ کے پہلے مرحلے کی پہلی کنٹرول شدہ واپسی اور دنیا کی پہلی سمندری جال بازیابی بتایا گیا ہے، نیز سیارے کو مطلوبہ مدار میں پہنچانے اور مشن کی کامیابی کا ذکر ہے۔
تیان ون-2 کے ہدف سیارچے پر پہنچ کر سائنسی کام شروع کرنے، تیان ون-3 کے ابتدائی نمونہ تیاری مرحلے میں داخل ہونے، لانگ مارچ سیریز کے ۶۷۰ لانچ اور ۹۷ فیصد سے زائد کامیابی، چین کے کریڈ اسپیس پروگرام کے ۴۰ پروازوں، اور ایک خلا نورد کی ۹ گھنٹے کی طویل ترین واحد خلائی چہل قدمی کا ذکر شامل ہے۔
بیڈو-3 نیویگیشن نظام کے بنیادی پرزوں کی مقامی شرح ۱۰۰ فیصد بتائی گئی ہے، اور بیڈو صنعت کی مجموعی پیداوار ۶۰۰ ارب یوآن سے زائد درج ہے۔ چین نے ۵۰ سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ ۲۰۰ سے زائد خلائی تعاون معاہدے کیے ہیں؛ بین الاقوامی قمری تحقیقی اسٹیشن کے لیے ۱۷ ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں سے معاہدے درج ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
چاند کی دور کی جانب سے پہلی نمونے واپسی، چاند کے جنوبی قطب پر پانی کی تلاش، اور راکٹ کے پہلے مرحلے کی بازیابی چاند اور لانچ خدمات کی صلاحیتوں کی اہم مثالیں ہیں۔
بین الاقوامی قمری تحقیقی اسٹیشن کے معاہدے اور ۵۰ سے زائد ممالک کے ساتھ خلائی تعاون اس شعبے میں بین الاقوامی شراکتوں کی پیمائش دیتے ہیں۔
پس منظر
بین الاقوامی قمری تحقیقی اسٹیشن چین اور روس کے زیرِ اہتمام چاند کا پروگرام ہے؛ یہ آرٹیمس معاہدوں کے متبادل ڈھانچے کے طور پر بنایا جا رہا ہے، جن پر دونوں ممالک نے دستخط نہیں کیے۔
آگے کیا ہوگا
چانگ ای-7 کو چاند کے جنوبی قطب پر پانی کی تلاش کے لیے بھیجنے کا منصوبہ درج ہے، اور چاند پر انسان بھیجنے کے منصوبے میں پہلی چینی لینڈنگ کا ہدف درج ہے۔
چین کے خلائی اسٹیشن کے لیے ایک پاکستانی خلا نورد کے چینی خلا نوردوں کے ساتھ مشن پر جانے کا منصوبہ درج ہے۔
ذرائع
یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے