چین نے 1970 سے 2024 تک خلائی اور قمری سنگِ میل حاصل کیے
پس منظر
- چانگ ای-6 نے 25 جون 2024 کو چاند کی دور کی سطح سے 1935.3 گرام نمونے زمین پر پہنچائے۔
- چانگ ای-6 چاند کی دور کی سطح سے نمونوں کی انسانی تاریخ میں پہلی کامیاب واپسی کا مشن تھا۔
- چانگ ای-6 میں نمونے لینے اور بند کرنے کے لیے مؤثر کام کا وقت 17 گھنٹے سے زیادہ نہیں ہو سکتا تھا۔
- پاکستانی کیوب سیٹ چاند کے گرد مدار میں کامیابی سے الگ ہوا۔
- چانگ ای-6 نے 4 بین الاقوامی پے لوڈ اٹھائے۔
کیا ہوا
24 اپریل 1970 کو ڈونگ فانگ ہونگ-1 کی پرواز سے شروع ہونے والا چین کا خلائی سفر 2024 میں چانگ ای-6 کے چاند کی دور کی سطح سے نمونے واپس لانے تک پہنچا۔
پاکستانی کیوب سیٹ چاند کے گرد مدار میں کامیابی سے الگ ہوا، جو پاکستان کی پہلی قمری مہم کی ابتدا تھا۔
ہم کیا جانتے ہیں
چین کے خلائی سفر کے ابتدائی سنگِ میل میں دفاعی وزارت کی پانچویں تحقیقاتی اکادمی کا قیام اور چینی خلائی سرگرمی کا آغاز شامل ہے۔ 24 اپریل 1970 کو ڈونگ فانگ ہونگ-1 روانہ ہوا۔
بعد کے مراحل میں تیآن ژو-1 نے اپنی پہلی پرواز مکمل کی اور تیآن ژو-2 کے ذریعے لانچ سے قبل سامان کی تنصیب کے منصوبوں پر کام شروع ہوا۔ چین کا پہلا واپس آنے والا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ بھی واپس آیا، اور چین سیٹلائٹ بازیابی کی صلاحیت رکھنے والا دنیا کا تیسرا ملک بنا۔
چانگ ای-6 3 مئی 2024 کو روانہ ہوا اور اس کا واپسی کیپسول 25 جون 2024 کو چاند کی دور کی سطح کے نمونوں کے ساتھ زمین پر پہنچا۔ یہ انسانی تاریخ میں چاند کی دور کی سطح سے نمونے واپس لانے کی پہلی کامیاب کوشش تھی۔ واپس لائے گئے نمونوں کا وزن 1935.3 گرام تھا۔
نمونے لینے اور انہیں بند کرنے کے عمل کے لیے مؤثر کام کا وقت 17 گھنٹے سے زیادہ نہیں ہو سکتا تھا، اور اس عمل میں تقریباً 2000 حرکات شامل تھیں۔
چانگ ای-6 نے 4 بین الاقوامی پے لوڈ اٹھائے۔
پاکستانی کیوب سیٹ چین اور پاکستان نے مشترکہ طور پر تیار کیا تھا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کی پہلی قمری مہم کی ابتدا تھا اور یہ چاند کے گرد مدار میں کامیابی سے الگ ہوا۔
پاکستانی کیوب سیٹ کا پورا وزن 6.5 کلوگرام تھا اور اس پر سوار مجموعی وزن 9 کلوگرام تھا۔ اس کی جانچ کی عمر 5 گھنٹے مقرر تھی، لیکن وہ حقیقت میں 55 دن تک مدار میں کام کرتا رہا۔
چین 50 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ عملی تعاون آگے بڑھا چکا ہے۔ چین کے خلائی اسٹیشن کے پہلے بین الاقوامی تعاون کے سائنسی تجرباتی منصوبوں میں 17 ممالک کے 9 منصوبے منتخب ہوئے۔
یہ کیوں اہم ہے
قمری صنعت پر نظر رکھنے والوں کے لیے سب سے اہم بات چاند کی دور کی سطح سے نمونے واپس لانے کی ثابت شدہ صلاحیت ہے۔ 17 گھنٹے تک محدود مؤثر وقت اور تقریباً 2000 حرکات والی یہ کارروائی مشن کی پیچیدگی بھی واضح کرتی ہے۔
پاکستانی کیوب سیٹ کا چاند کے گرد مدار میں کام کرنا اور 50 سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ عملی تعاون، چین کے خلائی اور قمری پروگرام کی بین الاقوامی شراکت داری کی موجودہ سطح ظاہر کرتے ہیں۔
آگے کیا ہوگا
چین کا خلائی اسٹیشن پہلے غیر ملکی خلاباز کی میزبانی بھی کرے گا۔
ذرائع
یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے