ٹرانسپورٹر-18 لانچ: 130 پے لوڈز میں جی ایچ جی سیٹ اور نورڈ اسپیس کا پہلا سیٹلائٹ شامل
اسپیس ایکس کے رائیڈ شیئر مشن میں دو میتھین مانیٹرنگ سیٹلائٹس اور نورڈ اسپیس کا پہلا خلائی جہاز شامل تھا، جو مدار میں 130 پے لوڈز لے گیا۔
- ٹرانسپورٹر-18 مشن یکم اکتوبر 2026 کو وینڈنبرگ اسپیس فورس بیس سے فالکن 9 راکٹ پر لانچ ہوا۔
- اس لانچ میں 130 پے لوڈز بھیجے گئے، جن میں جی ایچ جی سیٹ کے دو میتھین مانیٹرنگ سیٹلائٹس شامل تھے۔
- نورڈ اسپیس کا پہلا سیٹلائٹ ٹیرا نووا بھی ٹرانسپورٹر-18 کے 130 پے لوڈز میں شامل تھا۔
- اس مشن میں 41 پے لوڈز بعد میں چھوڑے گئے اور دو خلائی جہاز دوبارہ داخلے والی گاڑیوں کے ساتھ تھے۔
- ٹرانسپورٹر-18 چھوٹے سیٹلائٹس کے لیے بار بار اور کم لاگت رسائی کی صلاحیت ظاہر کرتا ہے۔
کیا ہوا
اسپیس ایکس نے یکم اکتوبر 2026 کو فالکن 9 راکٹ کے ذریعے ٹرانسپورٹر-18 مشن لانچ کیا، جس میں 130 پے لوڈز کو خلا میں بھیجا گیا۔ ان پے لوڈز میں کینیڈا کے جی ایچ جی سیٹ کے دو میتھین مانیٹرنگ سیٹلائٹس اور نورڈ اسپیس کا پہلا سیٹلائٹ، ٹیرا نووا، شامل تھے۔
ہم کیا جانتے ہیں
یہ لانچ وینڈنبرگ اسپیس فورس بیس کے اسپیس لانچ کمپلیکس 4E سے فالکن 9 راکٹ پر 1 اکتوبر 2026 کو ہوا، جس کے لیے 2 اکتوبر 2026 کا بیک اپ موقع بھی رکھا گیا تھا۔
اس مشن میں کل 130 پے لوڈز شامل تھے، جن میں سے 41 کو بعد میں چھوڑا گیا اور دو خلائی جہاز دوبارہ داخلے والی گاڑیوں کے ساتھ تھے۔
مشن میں 127 دیگر رپورٹ شدہ پے لوڈز بھی شامل تھے، جن کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
یہ کیوں اہم ہے
یہ مشن چھوٹے سیٹلائٹس اور رائیڈ شیئر لانچوں کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے، جو کہ مستقبل میں قمری مشنوں سمیت خلائی تحقیق کے لیے کم لاگت اور بار بار رسائی کی بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔
پس منظر
جی ایچ جی سیٹ کے پچھلے دو سیٹلائٹس اسپائر گلوبل نے بنائے تھے اور وہ ٹرانسپورٹر-17 پر گئے تھے، جہاں انہوں نے چند ہفتوں میں پہلی میتھین کا سراغ لگا لیا تھا۔
نورڈ اسپیس اس وقت نیو فاؤنڈ لینڈ اور لیبرے ڈار میں راکٹ اور لانچ سائٹ بھی تیار کر رہا ہے۔
جن باتوں کا ہمیں یقین نہیں
- Ex-Alta 3 اور PRESET کے اس لانچ میں شامل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا لیکن مصدقہ طور پر شامل نہیں تھے۔
- بقیہ 127 پے لوڈز کی نوعیت اور مشن کی تفصیلات دستیاب نہیں تھیں۔
ذرائع
یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے