ٹریس گیس آربیٹر مریخ کے مدار میں تحقیق جاری رکھے ہوئے ہے
- ایگزو مارس پروگرام یورپی خلائی ایجنسی کا ہے، اور ٹریس گیس آربیٹر مریخ کے مدار میں 4 آلات سے ماحول کا مطالعہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
- ٹریس گیس آربیٹر کے لیے 2016 اور 2018 کے سنگِ میل درج ہیں، اور اس نے دیگر تمام مریخ مداروں کے مجموعی ڈیٹا سے زیادہ ڈیٹا منتقل کیا۔
- مریخ مدار میں موجود آربیٹر نے اب تک میتھین ریکارڈ نہیں کی، مگر ہائیڈروجن کلورائیڈ کی شناخت اور کم عرضِ بلد پر پانی کی برف کی دریافت میں مدد دی۔
- سیسس کیمرہ پورے سیارے کی اعلیٰ قرارداد تصویریں بناتا ہے۔
- روزالند فرانکلین پہلا یورپی روور ہوگا جو اوکسیا پلانم میں سطح کے نیچے سے نمونے لے گا اور ان کی معدنی و کیمیائی جانچ آن بورڈ لیبارٹری میں کرے گا۔
کیا ہوا
ایگزو مارس پروگرام یورپی خلائی ایجنسی نے بنایا ہے، اور ٹریس گیس آربیٹر مریخ کے مدار میں موجود ہے۔
یہ آج بھی مریخ کے ماحول کا مطالعہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
ہم کیا جانتے ہیں
ٹریس گیس آربیٹر کے لیے 2016 اور 2018 کے سنگِ میل درج ہیں۔
اس آربیٹر پر 4 آلات موجود ہیں اور اس نے دیگر تمام مریخ مداروں کے مجموعی ڈیٹا سے زیادہ ڈیٹا منتقل کیا ہے۔
اس نے اب تک میتھین ریکارڈ نہیں کی، تاہم مریخ کے ماحول میں ہائیڈروجن کلورائیڈ کی شناخت میں مدد دی اور کم عرضِ بلد پر پانی کی برف دریافت کی۔
مریخ ایکسپریس مشن نے 2003 میں میتھین دریافت کی تھی۔
سیسس کیمرہ پورے سیارے کی اعلیٰ قرارداد تصویریں بناتا ہے۔
روزالند فرانکلین پہلا یورپی روور ہوگا جو مریخ کی سطح پر حرکت کرے گا، اور یہ سطح کی تحقیق کے ساتھ ممکنہ طور پر حیات کے قابل رہے ماحول کے شواہد تلاش کرے گا۔
یہ روور سطح کے نیچے سے نمونے لے گا، اور ان نمونوں کی معدنی و کیمیائی جانچ اس کے آن بورڈ لیبارٹری میں کی جائے گی۔
اس کی لینڈنگ سائٹ اوکسیا پلانم ہے، جہاں قدیم، چکنی مٹی سے بھرپور چٹانیں تقریباً 3.9 ارب سال پرانی بتائی گئی ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
قمری صنعت پر نظر رکھنے والے قارئین کے لیے اہمیت یہ ہے کہ یہ حقائق مدار سے زیادہ ڈیٹا منتقلی، پورے سیارے کی اعلیٰ قرارداد تصویریں، سطح کے نیچے نمونے اور ان کی معدنی و کیمیائی جانچ جیسی صلاحیتیں واضح کرتے ہیں۔
ذرائع
یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے