گریفن ون لینڈر نے JPL میں اہم اختبارات مکمل کر لیے
- گریفن ون لینڈر نے JPL میں تھرمل ویکیوم، ارتعاش اور صوتی آزمائشیں کامیابی سے مکمل کیں۔
- وائیجر ٹیکنالوجیز کا یہ لینڈر ناسا CLPS اور مون بیس پروگرام کے لیے 455 کلوگرام سے زائد پے لوڈ لے جاسکتا ہے۔
- گریفن ون کو 2026 میں لانچ ہونا ہے اور منزل چاند کے جنوبی قطب کے قریب نوبیل کریٹر ہے۔
- مشن کی تفصیلات میں اسپیس ایکس فالکن ہیوی اور 1,265 کلوگرام درج ہیں، اور لینڈر انفراسٹرکچر کلاس قرار دیا گیا ہے۔
- مہم میں چھ ممالک کی 10 ڈیمون اسٹریشنز اور ایسٹرولیب کا FLIP روور شامل ہیں۔
کیا ہوا
وائیجر ٹیکنالوجیز کا گریفن ون لینڈر JPL میں سخت ماحولیاتی اختبارات سے کامیابی سے گزرا ہے۔
اسے لانچ، چاند کے سفر اور لینڈنگ کے لیے تیار بتایا گیا ہے۔
ہم کیا جانتے ہیں
گریفن ون JPL کے اہم اختبارات میں کامیاب رہا اور اس کی ماحولیاتی جانچ مکمل ہو گئی۔ اس دوران شدید درجہ حرارت، خلا، ارتعاش اور لانچ کے شور کی نقل کی گئی، اور اسے خلائی مہم کے قابل قرار دیا گیا۔
لینڈر کا تعلق وائیجر ٹیکنالوجیز اور وائیجر لونر سسٹمز سے درج ہے، جبکہ اسے ناسا کے CLPS اقدام کے دائرے میں مون بیس پروگرام سے جوڑا گیا ہے۔
گریفن ون 1,100 پاؤنڈز (455 کلوگرام) سے زیادہ پے لوڈ لے جانے کے لیے درج ہے۔ اس میں چھ ممالک کی 10 سائنسی و تکنیکی ڈیمون اسٹریشنز اور ایسٹرولیب کا FLIP روور شامل ہیں، اور منزل نوبیل کریٹر ہے جو چاند کے جنوبی قطب کے قریب ہے۔
مشن کی تفصیلات میں اسپیس ایکس فالکن ہیوی اور 2,789 پاؤنڈز (1,265 کلوگرام) درج ہیں، اور گریفن ون کو انفراسٹرکچر کلاس لینڈر قرار دیا گیا ہے۔
لینڈر پٹسبرگ سے JPL پہنچایا گیا۔ اسپن ٹیبل پر کمیت کی خصوصیات ناپی گئیں، اور اینیکوئک چیمبر میں برقی مقناطیسی مداخلت اور مطابقت کی جانچ ہوئی۔
تین سمتوں میں سینکڑوں سینسرز کے ساتھ ارتعاش کا امتحان لیا گیا، اور صوتی دھماکا 153 ڈیسی بل تک پہنچایا گیا۔
ماحولیاتی جانچ JPL کے کلین رومز اور 25 فٹ اسپیس سمیولیٹر میں کی گئی، جہاں تھرمل ویکیوم آزمائش تقریباً دو ہفتے شدید درجہ حرارت پر چلی۔
حتمی آزمائش 25 فٹ اسپیس سمیولیٹر میں ہوئی، جو تھرمل ویکیوم چیمبر ہے اور نیشنل رجسٹر آف ہسٹورک پلیسز میں درج ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
گریفن ون کو ناسا کی مون بیس کوششوں کی پیش پیش میں درج کیا گیا ہے، اور مون بیس کو انسانیت کے پہلے قمری آؤٹ پوسٹ کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ انفراسٹرکچر کلاس لینڈر ہونے کی وجہ سے یہ چاند پر بنیادی ڈھانچے کی تیاریوں کو جانچنے والوں کے لیے اہم ہے۔
اس کی 1,100 پاؤنڈز (455 کلوگرام) سے زائد پے لوڈ گنجائش، چھ ممالک کی 10 ڈیمون اسٹریشنز، FLIP روور، اور نوبیل کریٹر کی منزل اسے چاند کے جنوبی قطب کے قریب سرگرمیوں سے جوڑتی ہے۔
مشن کا ناسا کے CLPS اقدام اور مون بیس پروگرام سے تعلق اسے چاند کے پے لوڈ منصوبوں کے تناظر میں اہم بناتا ہے۔
آگے کیا ہوگا
گریفن ون کو 2026 میں لانچ کیا جانا ہے، اور اسے لانچ، چاند کے سفر اور لینڈنگ کے لیے تیار بتایا گیا ہے۔
ذرائع
یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے