ناسا نے ہبل کی خدمت کے لیے معلومات کی درخواست جاری کر دی

ناسا نے ہبل خلائی دوربین کی خلائی خدمت اور بلند مدار تک منتقلی کے لیے تجارتی دلچسپی معلوم کرنے کی درخواست آن لائن جاری کی ہے۔

  • ناسا نے ہبل خلائی دوربین کی تجارتی خدمت اور مدار بلند کرنے کے لیے معلومات کی درخواست جاری کی ہے۔
  • ہبل زمین کے نچلے مدار میں ہے اور اس کے پاس مدار برقرار رکھنے کے لیے کوئی پروپلشن نظام نہیں۔
  • ناسا کے مطابق ہبل کا مشن 2032 تک ہونا چاہیے، جبکہ ممکنہ واپسی 2033 سے 2034 کے دوران متوقع ہے۔
  • ہبل ناسا اور ایسا کی بین الاقوامی شراکت ہے، اور کمرشل خلائی پکڑ کی صلاحیتیں اس کی عمر بڑھانے کے مواقع دیتی ہیں۔

کیا ہوا

ناسا نے ہبل خلائی دوربین کی حمایت کے لیے خلائی خدمت سے متعلق معلومات کی درخواست جاری کی ہے۔ یہ درخواست آن لائن دستیاب ہے۔

ہم کیا جانتے ہیں

درخواست کا مقصد تجارتی دلچسپی معلوم کرنا ہے تاکہ ہبل کو بلند مدار تک پہنچانے اور اس کی خدمت کر کے صلاحیتیں بہتر بنانے کے امکانات دیکھے جا سکیں۔

ہبل زمین کے نچلے مدار میں ہے اور فضائی مزاحمت کے باعث اس کا بلند آہستہ آہستہ کم ہو رہا ہے۔ اس کے پاس اپنا مدار برقرار رکھنے کے لیے کوئی پروپلشن نظام نہیں ہے۔

ہبل کی ممکنہ واپسی 2033 سے 2034 کے دوران متوقع ہے۔ ناسا کے مطابق ایسا مشن 2032 تک ہونا چاہیے، اور مشن کے اختتام پر محفوظ کنٹرول شدہ واپسی یا مدار میں تلفی شامل ہے۔

ہبل تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے کام کر رہا ہے اور یہ ناسا اور ایسا کی بین الاقوامی شراکت کا نتیجہ ہے۔

کمرشل شعبہ تیزی سے خلا میں سیٹلائٹ پکڑنے اور خدمت فراہم کرنے کی صلاحیتیں بنا چکا ہے۔

ناسا ہبل کے بعد ایک فلیگ شپ مشن تیار کر رہا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

ہبل پہلے سے مدار میں موجود اثاثہ ہے، اور اس کی عمر میں توسیع سے مزید دریافتیں، سائنس اور کائنات کی سمجھ بڑھانے کے مواقع مل سکتے ہیں۔

کمرشل شعبے کی خلائی پکڑ اور خدمت کی صلاحیتیں اس درخواست کو صنعتی دلچسپی کے قابل بناتی ہیں۔

ہبل ناسا اور ایسا کی شراکت کا بین الاقوامی منصوبہ ہے، جبکہ ناسا ہبل کے بعد ایک فلیگ شپ مشن بھی تیار کر رہا ہے۔

جن باتوں کا ہمیں یقین نہیں

  • ہبل کی واپسی کا وقت ممکنہ طور پر 2033 سے 2034 بتایا گیا ہے؛ یہ حتمی تاریخ نہیں ہے۔

ذرائع

  1. 1.NASA News Releases

یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے

متعلقہ خبریں