انتہائی ملبے والی ڈسکوں کی نوعیت سامنے: ویب اور اسپٹزر نے چاند کی تشکیل جیسے تصادم کے ثبوت فراہم کر دیے

ماہرین فلکیات نے جیمز ویب اور اسپٹزر خلائی دوربینوں کی مدد سے نوجوان ستاروں کے گرد انتہائی ملبے والی ڈسکوں کا نمونہ مرتب کیا ہے جس سے یہ معلوم ہوا کہ ان میں مریخ اور چاند کے سائز کی اشیاء کے تصادم عام ہیں۔

  • جیمز ویب اور اسپٹزر کے مشاہدات سے 21 نظاموں میں انتہائی ملبے والی ڈسکیں دو اقسام میں بٹیں۔
  • سیلیکا سے بھرپور ڈسکیں مریخ کے سائز کے اجسام کے تیز رفتار تصادم سے بنتی ہیں۔
  • سیلیکا سے محروم ڈسکیں چاند کے سائز کی اشیاء کے چھوٹے پیمانے کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہیں۔
  • نتائج زمین اور تھیا کے ٹکراؤ سے چاند کی تشکیل کے نظریے سے ہم آہنگ ہیں۔
  • چاند کی تشکیل کی بہتر سمجھ ناسا کے آرٹیمس پروگرام کے چاند پر واپسی کے عزائم سے جڑی ہے۔

کیا ہوا

ماہرین فلکیات نے اسپٹزر اور جیمز ویب خلائی دوربینوں کے اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہوئے نوجوان ستاروں کے گرد انتہائی ملبے والی ڈسکوں کی تفصیلی جانچ کی ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ ڈسکیں دو الگ قسموں میں بٹی ہوئی ہیں اور ان کی تشکیل کے پیچھے وہی تصادم کارفرما ہیں جن سے نظام شمسی میں چاند جیسے بڑے اجسام وجود میں آئے۔

ہم کیا جانتے ہیں

انتہائی ملبے والی ڈسکیں نایاب ہیں؛ یہ نوجوان ستاروں کے محض 1 فیصد میں پائی جاتی ہیں اور نظریاتی پیش گوئیوں کے برعکس بہت کم دیکھی گئی ہیں۔

محققین نے 21 نظاموں پر مشتمل ایک نمونہ مرتب کیا جس میں اسپٹزر کے آرکائیو سے 5 ڈسکیں اور جیمز ویب سے 16 ڈسکیں شامل ہیں، جن میں 12 کا پہلی بار مشاہدہ کیا گیا۔ ساتھ ہی اسپٹزر کی چار ڈسکوں کے تعاقبی مشاہدات بھی کیے گئے۔

یہ تمام ڈسکیں تین یکساں خصوصیات رکھتی ہیں: دھول کے چھوٹے ذرات، گرم دھول کی زیادہ مقدار اور بے قاعدہ چمک۔

مزید درجہ بندی سے معلوم ہوا کہ تقریباً ایک تہائی ڈسکیں سیلیکا سے بھرپور ہیں جبکہ باقی دو تہائی سیلیکا سے محروم ہیں۔

سیلیکا سے بھرپور ڈسکیں مریخ کے سائز کے اجسام کے درمیان تیز رفتار تصادم سے بنتی ہیں، جبکہ سیلیکا سے محروم ڈسکیں چاند کے سائز کی اشیاء کے درمیان رگڑ جیسے چھوٹے پیمانے کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہوتی ہیں۔

اسپٹزر خلائی دوربین پہلے ہی ریٹائر ہو چکی ہے، مگر اس نے ہی انتہائی ملبے والی ڈسکوں کے اس ذیلی طبقے کو دریافت کیا تھا۔ جیمز ویب خلائی دوربین کا استعمال نوجوان ستاروں کے ایسے نظاموں کا جائزہ لینے کے لیے کیا جا رہا ہے جہاں تصادم کے آثار موجود ہیں۔

یہ نتائج زمین کے چاند کی تشکیل کے بارے میں موجود نظریے سے ہم آہنگ ہیں جس کے مطابق چاند غالباً زمین اور ایک مریخ کے سائز کے جسم (تھیا) کے ٹکراؤ سے بنا۔

یہ کیوں اہم ہے

یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے نظام شمسی میں چاند کی تشکیل جیسے ہولناک تصادم دوسرے سیاروی نظاموں میں بھی عام ہیں، جس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ چٹانی سیارے اور ان کے چاند کیسے وجود میں آتے ہیں۔

چاند کی تشکیل کے عمل کو بہتر طور پر سمجھنا انسانی خلائی پروازوں کے موجودہ عزائم سے بھی جڑا ہے، کیونکہ چاند پر واپسی کی تیاری جاری ہے۔

پس منظر

ناسا کا آرٹیمس پروگرام انسانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنے اور مریخ پر جانے کی تیاری کر رہا ہے۔

ذرائع

  1. 1.NASA News Releases

یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے