کرسٹینا کاک ناسا کی قائم مقام ڈپٹی چیف انجینئر، وان ہوزر ریٹائر
- کرسٹینا کاک ناسا کی انجینئرنگ برادری کی قیادت میں قائم مقام ڈپٹی چیف انجینئر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گی۔
- کیتھرین وان ہوزر ریٹائر ہو رہی ہیں؛ انہوں نے اسپیس لانچ سسٹم کے لیکوئیڈ انجنز ایلیمنٹ کی پہلی چیف انجینئر کے طور پر قیادت کی۔
- کاک کے ریکارڈ میں مشن اسپیشلسٹ کے طور پر 328 دن کی خواتین کی طویل ترین واحد خلائی پرواز اور پہلی تمام خواتین اسپیس واکس شامل ہیں۔
- آرٹیمس ٹو کے ساتھ اپریل 2026 کی تاریخ درج ہے، اور اسے 50 سال سے زائد عرصے میں چاند کے گرد پہلی انسانی عملے والی پرواز قرار دیا گیا ہے۔
کیا ہوا
کرسٹینا کاک کی حیثیت قائم مقام ڈپٹی چیف انجینئر بتائی گئی ہے، جبکہ کیتھرین وان ہوزر ریٹائر ہو رہی ہیں۔ کاک ناسا کی انجینئرنگ برادری کی قیادت میں مدد کریں گی۔ کرسٹینا کاک سے متعلق اعلان 13 اکتوبر 2026 کو درج ہے۔
ہم کیا جانتے ہیں
کرسٹینا کاک کی حیثیت قائم مقام ڈپٹی چیف انجینئر، مینجمنٹ آسٹروناٹ اور ناسا کی انجینئرنگ برادری کی قیادت میں مدد کرنے والی درج ہے۔ وہ آئندہ خلائی پروازوں کی تفویض کے لیے اہل نہیں ہیں، اور ان سے متعلق اعلان 13 اکتوبر 2026 کو درج ہے۔
کیتھرین وان ہوزر کی حیثیت ریٹائرمنٹ درج ہے، اور ان سے متعلق 21 اکتوبر 2026 کی تاریخ دی گئی ہے۔
کیتھرین وان ہوزر کا تعلق مارشل اسپیس فلائٹ سینٹر سے ہے جو ہنٹسویل، الاباما میں ہے۔ ان کے شعبے پروپلشن انجینئرنگ، تکنیکی قیادت اور مائع راکٹ انجن ٹربو مشینری تھے۔
وہ اسپیس شٹل مین انجن کی چیف انجینئر رہیں، جو آخری 21 شٹل پروازوں میں استعمال ہوا۔ وہ اسپیس لانچ سسٹم کے لیکوئیڈ انجنز ایلیمنٹ کی پہلی چیف انجینئر بھی رہیں؛ یہ پروپلشن سسٹم ناسا کے آرٹیمس مشنوں کی حمایت کرتے ہیں۔
وہ مارشل کی چیف انجینئر اور ناسا کی ڈپٹی چیف انجینئر رہیں؛ ان کے بارے میں 2023 کا ذکر ہے۔
کرسٹینا کاک کی حیثیت مشن اسپیشلسٹ درج ہے۔ ان کے بارے میں 328 دنوں کا ذکر ہے، اور ان کے ریکارڈ میں خواتین کی طویل ترین واحد خلائی پرواز اور پہلی تمام خواتین اسپیس واکس شامل ہیں۔
کرسٹینا کاک گوڈارڈ اسپیس فلائٹ سینٹر میں الیکٹریکل انجینئر رہیں، جو گرین بیلٹ، میری لینڈ میں ہے، اور ان کا کام خلائی مشنوں کے سائنسی آلات سے متعلق تھا۔ انہوں نے انٹارکٹیکا اور آرکٹک میں سائنسی فیلڈ انجینئرنگ کی اور ناسا کے آسٹروناٹ آفس اور جانسن اسپیس سینٹر میں قیادت کے عہدے سنبھالے۔
آرٹیمس ٹو کو 50 سال سے زائد عرصے میں چاند کے گرد پہلی انسانی عملے والی پرواز قرار دیا گیا ہے، اور اس کے ساتھ اپریل 2026 کی تاریخ درج ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
آرٹیمس ٹو کو 50 سال سے زائد عرصے میں چاند کے گرد پہلی انسانی عملے والی پرواز درج کیا گیا ہے، اس لیے ناسا کی انجینئرنگ قیادت میں تبدیلی قمری صنعت کے لیے اہم ہے۔
کیتھرین وان ہوزر کا کام اسپیس لانچ سسٹم کے لیکوئیڈ انجنز اور ناسا کے آرٹیمس مشنوں کی حمایت کرنے والے پروپلشن نظاموں سے جڑا تھا، جبکہ کرسٹینا کاک مینجمنٹ آسٹروناٹ ہیں اور ناسا کی انجینئرنگ برادری کی قیادت میں مدد کریں گی۔
ذرائع
یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے