SPEARS بیٹریاں شدید قمری درجہ حرارت کی آزمائش سے گزر گئیں
- SPEARS ٹھوس حالت والی بیٹریاں ناسا کی تھرمل ویکیوم آزمائش میں شدید قمری درجہ حرارت برداشت کرتی ہوئی نقصان کے بغیر کامیاب رہیں۔
- یہ بیٹریاں مائع الیکٹرولائٹ کے جمنے یا بخارات بننے کے مسئلے کو ٹھوس سرامک یا پولیمر الیکٹرولائٹ سے حل کرتی ہیں۔
- ناسا کے لینگلے ریسرچ سینٹر میں آزمائش کے دوران چھوٹے پروٹوٹائپ سیلز 176، -76 اور -112 فارن ہائٹ درجہ حرارت پر جانچے گئے۔
- SPEARS بیٹریاں -274 فارن ہائٹ تک انتہائی کم درجہ حرارت برداشت کر سکتی ہیں اور چھوٹے ہیٹرز سے کام کے درجہ حرارت تک آتی ہیں۔
- یہ بیٹریاں ڈرل، روور، ہنگامی پاور پیکس اور طویل مدت کے سائنسی آلات کے لیے توانائی دے سکتی ہیں، اور آرٹیمس مہم کے دوران طویل قمری موجودگی کو توانائی دینے میں مددگار ہو سکتی ہیں۔
کیا ہوا
ناسا کے گلن ریسرچ سینٹر کی قیادت میں SPEARS کے ٹھوس حالت والے بیٹری سیل شدید درجہ حرارت کی آزمائش سے گزارے گئے ہیں۔ یہ سیل خلا کے لیے بنائے گئے ہیں اور شدید گرمی و سردی میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ شدید درجہ حرارت کے سامنے آنے کے بعد یہ نقصان نہیں اٹھاتے۔
ہم کیا جانتے ہیں
SPEARS کا مطلب Solid Power for Extreme Environment Adaptability and Resilience in Space ہے۔ اس کی قیادت ناسا کا گلن ریسرچ سینٹر کر رہا ہے، اور ڈونلڈ ڈورن بش ناسا گلن میں اس کے پرنسپل انویسٹی گیٹر ہیں۔ یہ بیٹریاں خلا کے لیے تیار کی گئی ہیں۔
روایتی لیتھیم آئن بیٹریاں مائع الیکٹرولائٹ پر انحصار کرتی ہیں۔ چاند کی رات کے درجہ حرارت پر یہ مائع الیکٹرولائٹ جم سکتا ہے، اور خلا میں بخارات بن کر اڑ سکتا ہے۔
چاند کے جنوبی قطب کا درجہ حرارت -328 فارن ہائٹ تک بتایا گیا ہے۔ SPEARS بیٹریاں ٹھوس سرامک یا پولیمر پر مبنی الیکٹرولائٹ رکھتی ہیں اور شدید گرمی و سردی میں کام کر سکتی ہیں۔
ان بیٹریوں کو چاند کے دن اور رات کے درجہ حرارت کے اتار چڑھاؤ میں قابل اعتماد رہنا ہے۔ تھرمل ویکیوم آزمائش ناسا کے لینگلے ریسرچ سینٹر، ہیمپٹن، ورجینیا میں ہوئی۔
چھوٹے پروٹوٹائپ بیٹری سیل 176، -76 اور -112 فارن ہائٹ پر آزمائے گئے۔ SPEARS سیلز کے لیے -80 سیلسیئس کا سنگ میل درج ہے۔
SPEARS بیٹریوں کا درجہ حرارت 212 سے -274 فارن ہائٹ تک بتایا گیا ہے۔ شدید درجہ حرارت کے سامنے آنے کے بعد یہ نقصان نہیں اٹھاتیں، اور انتہائی کم درجہ حرارت برداشت کر سکتی ہیں۔
یہ بیٹریاں چھوٹے ہیٹرز سے کام کے درجہ حرارت پر لائی جاتی ہیں، اور انہیں صرف آپریشنل درجہ حرارت تک گرم کرنے کی ضرورت ہے، مسلسل گرم رکھنے کی نہیں۔ مستقبل کے قمری آپریشنز میں بیٹری کو گرم ہوتے ہی فوراً کام کرنا ہوگا، آگ کے خطرے کے بغیر۔
یہ بیٹریاں بھاری تھرمل مینجمنٹ کی ضرورت کم کر سکتی ہیں۔ ان کے استعمال میں ڈرل، روور اور ہنگامی پاور پیکس شامل ہیں، اور یہ طویل مدت کے سائنسی آلات کو بھی توانائی دے سکتی ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
قمری صنعت پر نظر رکھنے والوں کے لیے اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ بیٹریاں آرٹیمس مہم کے دوران طویل قمری موجودگی کو توانائی دے سکتی ہیں۔
یہ بیٹریاں بھاری تھرمل مینجمنٹ کی ضرورت کم کر سکتی ہیں، جبکہ ان کے ممکنہ استعمال میں ڈرل، روور، ہنگامی پاور پیکس اور طویل مدت کے سائنسی آلات شامل ہیں۔
ذرائع
یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے