ناسا نے آر ایس-25 انجن نمبر 10001 کی جانچ مکمل کی
- ناسا نے اسٹینس اسپیس سینٹر میں آر ایس-25 انجن نمبر 10001 کی ہاٹ فائر جانچ مکمل کی۔
- انجن کو 500 سیکنڈ چلایا گیا اور ٹیسٹ کا نتیجہ 111 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
- یہ جانچ آرٹیمس مشنوں کے لیے آر ایس-25 فلائٹ پرزوں کی قبولیت اور نئے تھرمل پروٹیکشن سسٹم کی توثیق کے لیے کی گئی۔
- آر ایس-25 انجن ہر آرٹیمس مشن میں ایس ایل ایس راکٹ کو لانچ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
- انجن نمبر 10001 ابھی پرواز میں استعمال نہیں ہوا، مگر ہاٹ فائر ٹیسٹ کا ڈیٹا کارکردگی اور اعتماد بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔
کیا ہوا
ناسا نے آر ایس-25 انجن نمبر 10001 کی جانچ مکمل کی ہے۔ یہ جانچ ناسا کے اسٹینس اسپیس سینٹر پر کی گئی۔
ہم کیا جانتے ہیں
جانچ کے مقام کے طور پر فریڈ ہیز ٹیسٹ اسٹینڈ اور ناسا کا اسٹینس اسپیس سینٹر درج ہیں۔ بے سینٹ لوئس، مسیسپی اسٹینس اسپیس سینٹر کے قریب ہے۔ آپریشنز میں ناسا، L3Harris Technologies اور Nova Space Solutions کے آپریٹرز شامل تھے۔
انجن نمبر 10001 کو 500 سیکنڈ کے لیے چلایا گیا اور ٹیسٹ کا نتیجہ 111 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ نئے پروڈکشن انجنوں کے لیے بھی 111 فیصد کا عدد درج ہے۔
اس جانچ کا مقصد مستقبل کے آرٹیمس مشنوں کے لیے آر ایس-25 فلائٹ پرزوں کی قبولیت کی جانچ اور نئے تھرمل پروٹیکشن سسٹم کی توثیق تھا۔ یہ بھی درج ہے کہ آر ایس-25 انجن کا نوزل لانچ کے دوران ایس ایل ایس کے گرد موجود حرارتی ماحول سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔
انجن نمبر 10001 ابھی پرواز میں استعمال نہیں ہوا۔ ہاٹ فائر ٹیسٹ اہم ڈیٹا حاصل کرنے کی صلاحیت دیتا ہے، جس سے انجن کی کارکردگی اور اعتماد بہتر کیا جا سکتا ہے۔
آر ایس-25 انجنوں کو استعمال سے پہلے ناسا اسٹینس میں جانچ کر کے پرواز کے قابل ثابت کیا جاتا ہے۔ L3Harris Technologies ناسا کی پرائیم ٹھیکیدار ہے۔
اسپیس لانچ سسٹم ناسا کا راکٹ ہے۔ ہر آرٹیمس مشن کے لیے ایس ایل ایس راکٹ 4 آر ایس-25 انجنوں کے ذریعے لانچ کیا جاتا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
قمری شعبے پر نظر رکھنے والوں کے لیے یہ جانچ اس لیے اہم ہے کہ آر ایس-25 انجن ہر آرٹیمس مشن میں ایس ایل ایس راکٹ کو لانچ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
اسٹینس میں جانچ اور ہاٹ فائر ٹیسٹ سے ملنے والا ڈیٹا انجن کی کارکردگی اور اعتماد بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے، جبکہ تھرمل پروٹیکشن سے متعلق مقاصد لانچ کے دوران حرارتی ماحول سے تحفظ پر توجہ دیتے ہیں۔
ذرائع
یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے