ای ایس اے کا 2026 خلائی نقل و حمل بیڑا: ویگا-سی، ایریئن 6 اور اسپیس رائڈر

  • ای ایس اے نے 2026 کے لیے ویگا-سی، ایریئن 6 اور اسپیس رائڈر پر مشتمل خلائی نقل و حمل بیڑے کی حیثیت کا اعلان کیا۔
  • ویگا-سی اور ایریئن 6 دونوں P120C ٹھوس ایندھن بوسٹر استعمال کرتے ہیں۔
  • ایریئن 6 ماڈیولر ڈھانچے والا بھاری لفٹ راکٹ ہے جسے دو یا چار بوسٹروں کے ساتھ ترتیب دیا جا سکتا ہے۔
  • اسپیس رائڈر تقریباً دو ماہ زیریں مدار میں رہنے اور رن وے پر اترنے والی خودکار روبوٹک تجربہ گاہ ہے۔
  • یہ بیڑا قمری صنعت کے لیے اہم ہے کیونکہ یہ چاند تک بھاری سازوسامان بھیجنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔

کیا ہوا

ای ایس اے نے 2026 کے لیے اپنے خلائی نقل و حمل کے بیڑے کی حیثیت کا اعلان کیا ہے۔ اس میں ویگا-سی راکٹ، دو اور چار بوسٹر والے ایریئن 6، نیز اسپیس رائڈر خلائی گاڑی شامل ہیں۔

ہم کیا جانتے ہیں

2026 کے لیے ای ایس اے کے خلائی نقل و حمل کے بیڑے میں ویگا-سی، دو بوسٹر والا ایریئن 6، P160C پر مبنی چار بوسٹر والا ایریئن 6، اور اسپیس رائڈر شامل ہیں۔

ویگا-سی اور ایریئن 6 دونوں P120C ٹھوس ایندھن بوسٹر استعمال کرتے ہیں۔ یہ تمام راکٹ فرانسیسی گیانا میں واقع یورپ کے خلائی اڈے سے لانچ کیے جاتے ہیں۔

ویگا-سی دوسری نسل کا چھوٹا لانچر ہے، جو زیریں زمینی مدار میں 3.3 ٹن پے لوڈ لے جا سکتا ہے۔

ایریئن 6 ایک بھاری لفٹ ماڈیولر ڈھانچے والا راکٹ ہے، جسے دو یا چار بوسٹروں کے ساتھ ترتیب دیا جا سکتا ہے۔

اسپیس رائڈر ایک خودکار روبوٹک لیبارٹری ہے، جو تقریباً دو ماہ زیریں مدار میں رہ کر رن وے پر اترنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کا پے لوڈ ٹیکنالوجی کے مظاہرے اور تحقیق کے لیے ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

قمری صنعت پر نظر رکھنے والوں کے لیے یہ بیڑا اہم ہے کیونکہ یہ چاند تک بھاری سازوسامان بھیجنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ اسپیس رائڈر کی خودکار تجربہ گاہ مستقبل میں قمری مشنوں کے لیے درکار ٹیکنالوجی کی آزمائش کا پلیٹ فارم بن سکتی ہے۔

ذرائع

  1. 1.ESA Space Transportation

یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے