وویجر 1 18 نومبر 2026 کو ایک لائٹ ڈے کی حد عبور کرے گا
- وویجر 1 18 نومبر 2026 کو ایک لائٹ ڈے کی حد عبور کرے گا۔
- وویجر 1 اور وویجر 2 نے 175 سال میں ایک بار آنے والی سیاروی ترتیب سے فائدہ اٹھا کر 6 گریویٹی اسسٹ حاصل کیے۔
- وویجر 1 اور وویجر 2 زحل کے مقام پر الگ ہوئے، جبکہ وویجر 2 یورینس اور نیپچون کی جانب گیا۔
- ناسا کا ڈیپ اسپیس نیٹ ورک وویجر 1 کو زمین سے رابطہ کر کے ٹریک کرتا ہے۔
- وویجر 1 کے لیے 49 سال کا عرصہ اور 16100000000 میل کا فاصلہ درج ہے۔
کیا ہوا
وویجر 1 18 نومبر 2026 کو ایک لائٹ ڈے کی حد عبور کرے گا۔ یہ خلائی جہاز 1977 میں روانہ ہوا تھا۔
ہم کیا جانتے ہیں
وویجر 1 اور وویجر 2 1977 میں روانہ ہوئے تھے۔
ان مشنوں نے 175 سال میں ایک بار آنے والی سیاروی ترتیب سے فائدہ اٹھایا اور 6 گریویٹی اسسٹ حاصل کیے۔
وویجر 1 اور وویجر 2 زحل کے مقام پر الگ ہوئے، جبکہ وویجر 2 یورینس اور نیپچون کی جانب بڑھتا رہا۔
وویجر 1 نے نظامِ شمسی کی ایسی تصویر بنائی جس میں عطارد اور مریخ شامل نہیں تھے، اور پیل بلیو ڈاٹ کی آخری تصویر بھی اسی مشن سے آئی۔
وویجر 1 اور وویجر 2 ہیلیوپاز عبور کر چکے ہیں؛ یہ وہ حد ہے جہاں شمسی ہوا بین النجمی میڈیم سے ملتی ہے۔
ناسا کا ڈیپ اسپیس نیٹ ورک زمین سے دونوں خلائی جہازوں سے رابطہ کرتا ہے اور ہر ایک کو ٹریک کرتا ہے۔
وویجر 1 کے لیے 49 سال کا عرصہ اور 16100000000 میل کا فاصلہ درج ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
قمری صنعت پر نظر رکھنے والے قارئین کے لیے یہ سنگِ میل ناسا کے دورِ خلائی رابطہ اور ٹریکنگ نظام کی کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے، جو زمین سے بہت دور مشنوں کی نگرانی کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
آگے کیا ہوگا
وویجر 1 2026-11-18 کو ایک لائٹ ڈے کی حد عبور کرے گا۔
ذرائع
یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے