سان مارینو آرٹیمس معاہدوں کا 76واں دستخط کنندہ بن گیا

  • جمہوریہ سان مارینو آرٹیمس معاہدوں میں شامل ہونے والا 76واں دستخط کنندہ ہے۔
  • دستخط کی تقریب ریمی میں ہوئی، جہاں روسانو فابری نے سان مارینو کی طرف سے دستخط کیے۔
  • ناسا نے تمام آرٹیمس معاہدہ دستخط کنندگان کو چاند پر واپسی کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی دعوت دی ہے۔
  • آرٹیمس معاہدوں میں پرامن تحقیق، شفافیت، سائنسی اعداد و شمار تک رسائی، مداخلت سے گریز اور تاریخی مقامات کے تحفظ کے اصول شامل ہیں۔
  • تقریباً ایک تہائی دستخط کنندگان صدر ٹرمپ کی دوسری میعاد کے آغاز کے بعد شامل ہوئے۔

کیا ہوا

جمہوریہ سان مارینو آرٹیمس معاہدوں کا 76واں دستخط کنندہ بن گیا ہے۔

دستخط کی تقریب ریمی میں ہوئی، جہاں روسانو فابری نے سان مارینو کی طرف سے دستخط کیے۔

گریگوری مان اور جوزف ٹوریلا بھی اس تقریب میں شریک ہوئے۔

ہم کیا جانتے ہیں

سان مارینو کی شمولیت کے ساتھ آرٹیمس معاہدوں کے دستخط کنندگان کی تعداد 76 ممالک تک پہنچ گئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے ناسا کو چاند کا اڈا تعمیر کرنے اور چاند کی سطح پر پائیدار موجودگی قائم کرنے کی ہدایت دی ہے۔

ناسا نے تمام آرٹیمس معاہدہ دستخط کنندگان کو چاند پر واپسی میں حصہ لینے کی دعوت دی ہے۔

چاند پر واپسی کی سرگرمیوں میں سائنسی پے لوڈز، ٹیکنالوجی کے مظاہرے اور کیوب سیٹس شامل ہیں۔

معاہدے کے اصولوں میں پرامن اور شفاف تحقیق، ضرورت مندوں کی مدد، سائنسی اعداد و شمار تک رسائی، دوسروں کی سرگرمیوں میں مداخلت نہ کرنے اور تاریخی مقامات اور آثار کے تحفظ شامل ہیں۔

تقریباً ایک تہائی دستخط کنندگان صدر ٹرمپ کی دوسری میعاد کے آغاز کے بعد شامل ہوئے۔

ناسا کے ساتھ دنیا کے تقریباً 40 فیصد ممالک تعاون کر رہے ہیں، اور بیرونی خلا معاہدے کے تقریباً دو تہائی دستخط کنندگان آرٹیمس معاہدوں میں شامل ہو چکے ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

چاند کی صنعت پر نظر رکھنے والوں کے لیے یہ شمولیت اس لیے اہم ہے کہ ناسا نے ہر دستخط کنندہ کو چاند پر واپسی میں حصہ لینے کی دعوت دی ہے، اور سان مارینو بھی مستقبل میں شرکت کی طرف دیکھ رہا ہے۔

آرٹیمس معاہدے سائنسی اعداد و شمار تک رسائی، مداخلت سے گریز اور تاریخی مقامات اور آثار کے تحفظ جیسے عملی اصول طے کرتے ہیں، جبکہ دستخط کنندگان کی تعداد 76 ممالک تک پہنچ چکی ہے۔

آگے کیا ہوگا

سان مارینو مستقبل میں شرکت کی طرف دیکھ رہا ہے۔

ذرائع

  1. 1.NASA News Releases
  2. 2.NASA News Releases

یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے