ٹرائے ایشَر آرمسٹرانگ فلائٹ ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر مقرر
- ٹرائے ایشَر ناسا کے آرمسٹرانگ فلائٹ ریسرچ سینٹر کے نئے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔
- وہ بریڈلی فِلک کی جگہ لے رہے ہیں، جو تقریباً 40 سال ناسا سروس کے بعد ریٹائر ہوئے۔
- آرمسٹرانگ فلائٹ ریسرچ سینٹر ایڈورڈز، کیلیفورنیا میں ناسا کا فلائٹ ٹیسٹ اور ایئرکرافٹ آپریشنز سینٹر آف ایکسیلینس ہے۔
- ٹرائے ایشَر ریسرچ ٹیسٹ پائلٹ اور ایرو اسپیس انجینئر ہیں، جنہوں نے 2003 میں B-1B طیارے پر 25 عالمی رفتار کے ریکارڈ قائم کیے۔
- مرکز ناسا کے ایکس پلین پورٹ فولیو کی از سر نو تعمیر میں شامل ہے اور X-59 خاموش سپرسونک پرواز کو آگے بڑھا رہا ہے۔
کیا ہوا
ٹرائے ایشَر آرمسٹرانگ فلائٹ ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے ہیں۔
وہ بریڈلی فِلک کی جگہ لے رہے ہیں، جو تقریباً 40 سال کی ناسا سروس کے بعد ریٹائر ہوئے ہیں۔
ہم کیا جانتے ہیں
آرمسٹرانگ فلائٹ ریسرچ سینٹر ایڈورڈز، کیلیفورنیا میں ہے اور ناسا کا فلائٹ ٹیسٹ اور ایئرکرافٹ آپریشنز سینٹر آف ایکسیلینس ہے۔
یہ مرکز ہوائی سائنسی مشنوں اور فلائٹ ریسرچ کی حمایت کرتا ہے۔
ٹرائے ایشَر ریسرچ ٹیسٹ پائلٹ اور ایرو اسپیس انجینئر ہیں۔
انہوں نے 24 سالہ امریکی فضائیہ سروس میں لیفٹیننٹ کرنل، امریکی فضائیہ ٹیسٹ پائلٹ اسکول کے انسٹرکٹر، 419ویں فلائٹ ٹیسٹ اسکواڈرن کے کمانڈر اور بمبار کمبائنڈ ٹیسٹ فورس کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
انہوں نے F-15، F/A-18، Gulfstream III، X-56A اور DC-8 پر فلائٹ ریسرچ کیا اور SOFIA کے لیڈ ٹیسٹ پائلٹ رہے۔
انہوں نے 2003 میں B-1B طیارے پر 25 عالمی رفتار کے ریکارڈ قائم کیے۔
ان کے پاس ایسٹرونوٹیکل انجینئرنگ میں بیچلرز اور مکینیکل انجینئرنگ میں ماسٹرز ڈگری ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
آرمسٹرانگ فلائٹ ریسرچ سینٹر ناسا کے سائنس، ٹیکنالوجی اور ایکسپلوریشن مشنوں کی حمایت کرتا ہے؛ قیادت میں یہ تبدیلی خلائی ایکسپلوریشن سے متعلق قارئین کے لیے اہم ہے۔
مرکز ناسا کے ایکس پلین پورٹ فولیو کی از سر نو تعمیر میں شامل ہے اور X-59 خاموش سپرسونک پرواز کو آگے بڑھا رہا ہے؛ یہ ہوائی تحقیق کی صلاحیت کے لیے اہم ہے۔
آگے کیا ہوگا
ٹرائے ایشَر آرمسٹرانگ کے عملے اور آپریشنز کی نگرانی کریں گے۔
جن باتوں کا ہمیں یقین نہیں
- فیکٹس میں ٹرائے ایشَر کو ڈائریکٹر اور قائم مقام ڈائریکٹر دونوں طور پر درج کیا گیا ہے۔
ذرائع
یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے