ایم ایم ایکس مشن اور ناسا تعاون پر میڈیا ٹیلی کانفرنس

  • میڈیا ٹیلی کانفرنس 16:00 EDT کو ہوگی اور ایجنسی کی ویب سائٹ پر نشر ہوگی۔
  • MMX مشن جاکسا کے تانیگاشیما اسپیس سینٹر سے لانچ کے لیے مقرر ہے۔
  • MEGANE گاما رے اور نیوٹران سپیکٹرومیٹر ناسا کی شراکت میں شامل ہے۔
  • امریکی سائنسدانوں کی فنڈنگ ناسا کے Discovery Program کے ذریعے ہے۔
  • خلائی جہاز فوبوس اور ڈیموس سے نمونے جمع کر کے زمین تک واپس لائے گا۔

کیا ہوا

ایم ایم ایکس مشن اور اس میں ناسا کے تعاون کے بارے میں میڈیا ٹیلی کانفرنس ہوگی۔ بریفنگ میں مشن کا جائزہ اور ناسا کی شراکتیں زیر بحث ہوں گی۔

ہم کیا جانتے ہیں

میڈیا ٹیلی کانفرنس 16:00 EDT پر ہوگی اور ایجنسی کی ویب سائٹ پر نشر کی جائے گی۔ بریفنگ میں مشن کا جائزہ اور ناسا کی شراکتیں شامل ہوں گی۔

ایم ایم ایکس مشن جاپان سے متعلق ہے اور جاکسا کا پورا نام Japan Aerospace Exploration Agency ہے۔ مشن لانچ کے لیے مقرر ہے اور لانچ مقام تانیگاشیما اسپیس سینٹر ہے۔

خلائی جہاز مریخ کے چاندوں فوبوس اور ڈیموس کا جائزہ لے گا، نمونے جمع کرے گا اور نمونے زمین تک پہنچائے گا۔

ناسا کی شراکتیں جاکسا کے ایم ایم ایکس مشن سے متعلق ہیں۔ مشن کے پے لوڈ میں MEGANE گاما رے اور نیوٹران سپیکٹرومیٹر اور سطحی نمونہ لینے کا طریقہ کار شامل ہیں۔ مشن کو ناسا کے ڈیپ اسپیس نیٹ ورک کی مواصلاتی اور نیویگیشن معاونت حاصل ہے۔

امریکی سائنس دان ایم ایم ایکس سائنس ٹیم میں شرکت کے لیے فنڈنگ حاصل کرتے ہیں، اور ناسا کے تعاون کی فنڈنگ Discovery Program کے ذریعے ہے۔

MEGANE کا تعلق Johns Hopkins Applied Physics Laboratory سے ہے۔ سطحی نمونہ لینے کا طریقہ کار Honeybee Robotics سے منسلک ہے، اور Honeybee Robotics کا تعلق Blue Origin کمپنی سے ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

مریخ کے چاندوں سے نمونے زمین تک لانے کا منصوبہ گہرے خلا میں نمونہ واپسی کی صلاحیتوں کو واضح کرتا ہے۔

ناسا کے پے لوڈ، ڈیپ اسپیس نیٹ ورک معاونت، امریکی سائنس دانوں کی فنڈنگ اور Honeybee Robotics کی شرکت اس مشن میں صنعتی اور ادارہ جاتی شمولیت دکھاتی ہے۔

آگے کیا ہوگا

میڈیا ٹیلی کانفرنس 16:00 EDT پر ہوگی اور ایجنسی کی ویب سائٹ پر نشر ہوگی؛ میڈیا کو دو گھنٹے پہلے تصدیق کرانا ہوگی۔

مشن لانچ کے لیے مقرر ہے اور لانچ تانیگاشیما اسپیس سینٹر سے متعلق ہے۔

ذرائع

  1. 1.NASA News Releases

یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے