مریخ کے بڑے شیاپریلی گڑھے کے گرد مارس ایکسپریس کی پرواز، تھری ڈی تصویر جاری

یورپی خلائی ایجنسی کے مارس ایکسپریس نے مریخ کے 460 کلومیٹر چوڑے شیاپریلی گڑھے کی تین جہتی تصویر جاری کی، جو کبھی پانی کی موجودگی کا شاہد ہے اور فلم ’دی مارشین‘ کی مشہور منزل بھی ہے۔

  • مریخ کے 460 کلومیٹر چوڑے شیاپریلی گڑھے کی تفصیلی موزیک تصویر مارس ایکسپریس کے HRSC کیمرے سے حاصل کی گئی۔
  • شیاپریلی گڑھے کی موزیک تصویر کو ڈیجیٹل خطوں کے ماڈل سے ملا کر تین جہتی 3D منظرنامہ تیار کیا گیا۔
  • شیاپریلی گڑھے کے علاقے میں کبھی پانی موجود تھا، ممکنہ طور پر ایک جھیل کی شکل میں۔
  • فلم دی مارشین میں خلاباز مارک واٹنی کی آخری منزل اسی شیاپریلی گڑھے کو دکھایا گیا تھا۔
  • مارس ایکسپریس کی HRSC اور ڈیجیٹل خطوں کی ماڈلنگ والی تکنیک قمری مشنوں کے لیے بھی قابلِ استعمال ہے۔

کیا ہوا

یورپی خلائی ایجنسی کے مارس ایکسپریس خلائی جہاز نے مریخ کے سب سے بڑے گڑھوں میں سے ایک، شیاپریلی گڑھے کے گرد پرواز کی اور اس کی ایک تفصیلی موزیک تصویر زمین پر بھیجی۔ اس تصویر کو ڈیجیٹل خطوں کے ماڈل کے ساتھ ملا کر تین جہتی (3D) منظرنامہ تیار کیا گیا ہے۔

ہم کیا جانتے ہیں

شیاپریلی گڑھا 460 کلومیٹر چوڑا ہے اور اس کا نام اطالوی ماہر فلکیات جیووانی شیاپریلی کے نام پر رکھا گیا ہے۔

جیووانی شیاپریلی 1877 میں مریخ کے عظیم مقابلوں (Great Opposition) کے دوران اپنے مشاہدات کے لیے مشہور ہیں، جب انہوں نے مریخ کا نقشہ بنایا اور اس پر موجود لکیروں کے لیے اطالوی لفظ ’کینالی‘ استعمال کیا۔

بعد میں کمزور دوربینوں کے باعث ’کینالی‘ کو پانی سے بھری نہریں سمجھ لیا گیا، لیکن آج مریخ پر ایسی کوئی پانی سے بھری نہریں موجود نہیں ہیں۔

اس علاقے میں کبھی پانی موجود تھا، ممکنہ طور پر ایک جھیل کی شکل میں۔

مارس ایکسپریس کے پے لوڈ میں شامل ہائی ریزولوشن سٹیریو کیمرے (HRSC) نے یہ موزیک تصویر 8°S/17°E مرکز پر تیار کی، جسے ڈیجیٹل خطوں کے ماڈل کے ساتھ ملا کر تین جہتی زمینی منظر بنایا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم ’دی مارشین‘ میں خلاباز مارک واٹنی کی آخری منزل یہی شیاپریلی گڑھا تھا، اور یہ فلم بھی مارس ایکسپریس کے HRSC HMC-30 ڈیٹا کی مدد سے تخلیق کی گئی تھی۔

یہ کیوں اہم ہے

مریخ پر پانی کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے شیاپریلی گڑھے جیسے علاقوں کا مطالعہ اہم ہے۔ یہ تصاویر اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ یہاں کبھی پانی موجود تھا۔

قمری صنعت سے وابستہ افراد کے لیے، مارس ایکسپریس کا HRSC کیمرہ اور ڈیجیٹل خطوں کی ماڈلنگ کی یہ تکنیک براہِ راست چاند کی سطح کی نقشہ سازی، لینڈنگ سائٹ کے انتخاب اور وسائل کی تلاش کے لیے قابلِ استعمال ہے، کیونکہ یہی طریقے قمری مشنوں میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔

پس منظر

مارس ایکسپریس یورپی خلائی ایجنسی (ESA) کا ایک خلائی مشن ہے۔

ذرائع

  1. 1.ESA Space Science

یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے