مارس ایکسپریس کی 2026 کی ایمازونیس مینسا تصویر

پس منظر

  • مارس ایکسپریس 2003 میں بھیجا گیا اور دو دہائیوں سے زیادہ عرصے مریخ کی سطح کی تفصیلی نقشہ برداری کرتا رہا۔
  • 14 جون 2026 کی ایمازونیس مینسا تصویر ہائی ریزولوشن اسٹیریو کیمرے کے ڈیٹا سے تیار ہوئی، جس کا پیمانہ 24 میٹر فی پکسل اور مدار 28328 تھا۔
  • ایمازونیس مینسا مریخ کے قدیم حصے میں چپٹی چوٹی والا پہاڑ ہے، جو لاوے، ہوا اور ٹکراؤ کے آثار رکھتا ہے۔
  • تصویر میں 50 کلومیٹر وادی اور 20 کلومیٹر پانی سے کھدا ہوا چینل، ساتھ ہی یارڈنگز کے دو گروہ بھی نظر آتے ہیں۔
  • جرمن ایرو اسپیس سینٹر نے ہائی ریزولوشن اسٹیریو کیمرہ تیار کیا، جبکہ فرائی یونیورسٹیٹ برلن کے گروپ نے ڈیٹا سے تصویر بنائی۔

کیا ہوا

مارس ایکسپریس 2003 میں بھیجا گیا اور اس نے دو دہائیوں سے زائد عرصے تک مریخ کے مناظر کی تحقیق کی۔ 14 جون 2026 کی تاریخ والی تصویر اس کے ہائی ریزولوشن اسٹیریو کیمرے کے ڈیٹا سے تیار کی گئی۔

ہم کیا جانتے ہیں

مارس ایکسپریس نے دو دہائیوں سے زائد عرصے تک مریخ کے مناظر کی تحقیق کی اور سطح کی بے مثال تفصیل، رنگوں اور سہ جہتی انداز میں نقشہ بندی کی۔

ہائی ریزولوشن اسٹیریو کیمرہ مارس ایکسپریس کا آلہ ہے اور اس نے ایمازونیس مینسا کو تصویر میں لیا۔ یہ تصویر 14 جون 2026 کی ہے، اس کا تعلق مدار 28328 سے ہے، اس کا پیمانہ 24 میٹر فی پکسل ہے اور اس کا مرکز تقریباً 3°S/215°E ہے۔

ایمازونیس مینسا چپٹی چوٹی والا پہاڑ ہے اور مریخ کے قدیم حصے میں واقع ہے۔ یہ لاوا، ہوا اور خلائی پتھروں کے ٹکراؤ سے تراشا گیا، 3 ابھاروں میں سے ایک ہے، اور اس کے مشرق میں گورڈی ڈورسم جبکہ مغرب میں یومینیڈیز ڈورسم ہے۔ اس کی شکل خمیدہ اور لمبوتری ہے اور نشیبی علاقوں کی طرف یہ کم گہرا ہوتا جاتا ہے۔

تصویر کے بائیں حصے میں ہموار سطح، ٹکراؤ کے گڑھے، ایک وادی اور پانی سے کھدا ہوا چینل نظر آتا ہے۔ قدیم لاوا نے زمین کے کچھ حصوں کو نئی سطح دی، گڑھے ہموار مادے سے بھر گئے اور ان میں سے ایک تقریباً مکمل طور پر دب گیا۔ یہ ہموار مادہ قدیم لاوا کے بہاؤ سے بنا ہے؛ وادی 50 کلومیٹر اور چینل 20 کلومیٹر ہے۔

ایمازونیس مینسا پر ہوا کی کٹاؤ کے آثار ہیں اور اس کے دونوں اطراف ترچھی لکیریں نظر آتی ہیں۔ اس کے گرد یارڈنگز کے 2 گروہ ہیں، اور ہوائیں اس پہاڑی سے متاثر ہوتی ہیں۔ تصویر میں بڑا ابھار درمیان سے دائیں جانب غالب ہے۔

ہائی ریزولوشن اسٹیریو کیمرہ جرمن ایرو اسپیس سینٹر نے تیار کیا اور چلایا۔ کیمرے کے ڈیٹا کی باقاعدہ پروسیسنگ ڈی ایل آر انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ریسرچ میں ہوئی، جبکہ فرائی یونیورسٹیٹ برلن کے ایک ورکنگ گروپ نے اس ڈیٹا سے تصویر بنائی۔ اس اشاعت میں ایچ آر ایس سی کی مزید تصاویر بھی شامل ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

قمری صنعت پر نظر رکھنے والے قارئین کے لیے یہ رپورٹ اس لیے اہم ہے کہ یہ طویل المدار سیاروی مشن، سہ جہتی نقشہ برداری اور جرمن اداروں کی ڈیٹا پروسیسنگ کے ذریعے سطح کی جیولوجی کو سمجھنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔

ذرائع

  1. 1.ESA Space Science

یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے