ہبل نے این جی سی 1827 کی تصویر جاری کر دی

ناسا کے ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ایک سروے کے دوران این جی سی 1827 کی تصویر جاری کی ہے۔

  • ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کنارے سے دکھائی دینے والی درمیانی مارپیچی کہکشاں این جی سی 1827 کی تصویر 16 اکتوبر 2026 کو جاری کی۔
  • این جی سی 1827 فاختہ کے مجمع النجوم میں واقع ہے اور زمین سے تقریباً 37 ملین نوری سال دور ہے۔
  • یہ تصویر ہبل کے اس سروے کا حصہ ہے جو ملکی وے جیسی 22 میزبان کہکشاؤں کے گرد 260 سیٹلائٹ کہکشاؤں کا مطالعہ کرتا ہے۔
  • سروے کا دائرہ زمین سے تقریباً 32 ملین نوری سال کے رداس تک ہے۔
  • کمیت والی کہکشائیں کائناتی ماڈلز کی چھوٹے پیمانے پر جانچ کا راستہ دیتی ہیں، مگر ماڈلز اور مشاہدات کی مطابقت مشکل ہے۔

کیا ہوا

ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی جانب سے این جی سی 1827 کی تصویر جاری کی گئی ہے۔ یہ ریلیز 16 اکتوبر 2026 کی ہے۔

ہم کیا جانتے ہیں

یہ ریلیز ناسا کے ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ سے متعلق ہے اور اس کی تاریخ 16 اکتوبر 2026 بتائی گئی ہے۔

این جی سی 1827 ایک کنارے سے دکھائی دینے والی درمیانی مارپیچی کہکشاں ہے اور کولمبا یعنی فاختہ کے مجمع النجوم میں واقع ہے۔

اس کہکشاں کا فاصلہ تقریباً 37 ملین نوری سال بیان کیا گیا ہے۔

ہبل نے یہ تصویر ایک سروے کے حصے کے طور پر حاصل کی۔ یہ سروے ملکی وے جیسی 22 میزبان کہکشاؤں کے گرد 260 سیٹلائٹ کہکشاؤں کا مطالعہ کر رہا ہے۔

سروے کا دائرہ زمین سے تقریباً 32 ملین نوری سال کے رداس تک بتایا گیا ہے۔

کمیت والی کہکشائیں چھوٹے پیمانے پر کائناتی ماڈلز کی پیشگوئیوں کی جانچ کا راستہ دیتی ہیں؛ تاہم یہ ماڈلز چھوٹے پیمانے پر مشاہدات سے مطابقت میں مشکل کا سامنا رکھتے ہیں۔

تصویر کا کریڈٹ ناسا، ایسا اور مائیکل جونز (کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی) کو دیا گیا ہے، جبکہ امیج پروسیسنگ گلیڈیز کوبر (ناسا/کیتھولک یونیورسٹی آف امریکا) نے کی۔

یہ کیوں اہم ہے

قمری صنعت کے قاری کے لیے یہ ریلیز ناسا اور ایسا کے جاری کردہ خلائی مشاہداتی مواد کی ایک مثال ہے۔

یہ سروے کمیت والی کہکشاؤں کے مشاہدے سے کائناتی ماڈلز کی چھوٹے پیمانے پر جانچ سے متعلق ہے، جہاں مشاہدات اور ماڈلز کی مطابقت مشکل ہے۔

جن باتوں کا ہمیں یقین نہیں

  • فاصلہ 'تقریباً 37 ملین نوری سال' اور سروے کا رداس 'تقریباً 32 ملین نوری سال' کے طور پر دیا گیا ہے۔

ذرائع

  1. 1.NASA News Releases

یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے

متعلقہ خبریں