ناسا نے ڈریگن فلائی پر عوامی نام بھیجنے کی دعوت دے دی

  • ناسا نے ڈریگن فلائی مشن پر عوامی نام مائیکرو چپ میں رکھنے کی دعوت دی ہے۔
  • نام جمع کروانے کی آخری تاریخ 15 جنوری 2027 کو 23:59 EST ہے۔
  • ڈریگن فلائی 2028 میں روانہ ہوگی اور 2034 میں زحل کے سب سے بڑے چاند ٹائٹن پر اترے گی۔
  • یہ ناسا کی پہلی روٹر کرافٹ سائنسی مہم ہے جو کسی دوسری دنیا کی سطح پر اڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
  • شرکاء کو ذاتی ڈیجیٹل بورڈنگ پاس دیا جائے گا۔

کیا ہوا

ناسا نے عوام کو ڈریگن فلائی مشن پر اپنے نام بھیجنے کی دعوت دی ہے۔ یہ نام مائیکرو چپ پر مشن کے ساتھ رکھے جائیں گے۔

ہم کیا جانتے ہیں

ڈریگن فلائی ایک روٹر ونگ طیارہ ہے اور ناسا کی پہلی روٹر کرافٹ سائنسی مہم ہے۔ یہ کسی دوسری دنیا کی سطح پر اڑنے اور وہاں کی سطح کو دیکھنے والا پہلا سائنسی مشن ہے۔

ناسا نے عوام کو نام بھیجنے کی دعوت دی ہے۔ یہ نام مائیکرو چپ پر ہوں گے، اور شرکاء کو ذاتی ڈیجیٹل بورڈنگ پاس دیا جائے گا۔

ناموں کی فہرست جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 جنوری 2027 کو 23:59 EST ہے۔

مشن کی ڈیزائن اور تعمیر جاری ہے، اور اس کی اسمبلی میری لینڈ کے لارل میں ہو رہی ہے۔

مشن کی قیادت ناسا کے لیے جانز ہاپکنز ایپلائیڈ فزکس لیبارٹری (اے پی ایل) کر رہی ہے، اور اے پی ایل جانز ہاپکنز یونیورسٹی کا حصہ ہے۔

ڈریگن فلائی 2028 میں روانہ ہوگی اور 2034 میں ٹائٹن پر اترے گی۔ ٹائٹن زحل کا سب سے بڑا چاند ہے۔

ٹائٹن میں گھنا ماحول، میتھین کی ندیاں اور جھیلیں، ریت کے ٹیلے اور نامیاتی مواد سے بھرپور زمین ہے۔

مشن مختلف مقامات پر اڑ کر ماحول کا جائزہ لے گا اور پری بائیوٹک کیمسٹری کے آثار تلاش کرے گا۔

یہ کیوں اہم ہے

قمری صنعت کے قارئین کے لیے اہمیت اس بات میں ہے کہ ناسا عوامی ناموں کو مائیکرو چپ کے ذریعے مشن میں شامل کر کے عوامی شمولیت کو واضح شکل دے رہا ہے۔

یہ مشن کسی دوسری دنیا کی سطح پر پرواز کرنے والا پہلا سائنسی مشن ہے، اور روٹر کرافٹ کے ذریعے مختلف مقامات پر اڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آگے کیا ہوگا

نام جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 جنوری 2027 کو 23:59 EST ہے۔

ڈریگن فلائی 2028 میں روانہ ہوگی اور 2034 میں ٹائٹن پر اترے گی۔

ذرائع

  1. 1.NASA News Releases
  2. 2.NASA News Releases

یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے