آئیوری کوسٹ نے آرٹیمس معاہدے پر دستخط کر دیے

افریقی خلائی نمائش ASPEX 2026 میں 75 واں دستخط کنندہ بننے کے بعد، آئیوری کوسٹ نے ناسا کے ساتھ مستقبل کی قمری تلاش کے مواقع حاصل کر لیے۔

  • آئیوری کوسٹ آرٹیمس معاہدوں کا 75 واں دستخط کنندہ بن گیا۔
  • دستخط عابد جان میں افریقی خلائی نمائش ASPEX 2026 کے دوران ہوئے۔
  • آئیوری کوسٹ کی خلائی ایجنسی 2025 میں قائم ہوئی، جو زمین کے مشاہدے، خلائی موسم، فلکیات، سیارچوں کی رہنمائی اور مواصلات کو مربوط کرتی ہے۔
  • 2019 میں قائم ہونے والا قومی دفتر برائے تکنیکی ترقی ناسا کے ساتھ زمین کے مشاہدے اور جیوڈیسی پر کام کر رہا ہے۔
  • آرٹیمس معاہدے چاند، مریخ اور اس سے آگے کی سرگرمیوں میں شفافیت، تحفظ اور تعاون کے اصول طے کرتے ہیں۔

کیا ہوا

آئیوری کوسٹ نے عابد جان میں منعقدہ افریقی خلائی نمائش ASPEX 2026 کے دوران آرٹیمس معاہدے پر دستخط کر دیے۔

اس کے ساتھ ہی وہ اس معاہدے کا 75 واں دستخط کنندہ ملک بن گیا، جسے معاہدے کا اب تک کا سب سے بڑا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

ہم کیا جانتے ہیں

دستخط کی تقریب عابد جان، جو آئیوری کوسٹ کا سب سے بڑا شہر ہے، میں افریقی خلائی نمائش ASPEX 2026 کے دوران منعقد ہوئی۔

آئیوری کوسٹ کی جانب سے ادما دیاوارا نے دستخط کیے، جبکہ جنید منیر نے بطور گواہ تقریب میں شرکت کی۔

آئیوری کوسٹ آرٹیمس معاہدوں کا 75 واں دستخط کنندہ بن گیا، جو اب تک کا سب سے بڑا سنگ میل ہے، اور اس سے خلائی سائنس و ٹیکنالوجی میں اس کی شمولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

آئیوری کوسٹ کا قومی دفتر برائے تکنیکی ترقی، جو 2019 میں قائم ہوا، ناسا کے ساتھ شراکت میں زمین کے مشاہدے اور جیوڈیسی، جدید عالمی جیوڈیٹک نیٹ ورکس، بہتر خلائی پیمائش کی تکنیکوں اور زمینی نظاموں کی بڑھتی ہوئی سمجھ پر کام کر رہا ہے۔

آئیوری کوسٹ کی خلائی ایجنسی 2025 میں قائم ہوئی، جو زمین کے مشاہدے، خلائی موسم، فلکیات، سیارچوں کی رہنمائی اور مواصلات کو مربوط کرتی ہے۔

امریکہ آئیوری کوسٹ کے ساتھ زمینی امور میں تعاون کرے گا۔

2020 میں ناسا اور امریکی محکمہ خارجہ کے ذریعے قائم کردہ آرٹیمس معاہدے شفافیت، حفاظت، رابطہ کاری اور تاریخی مقامات و نوادرات کے تحفظ کے لیے پہلے عملی اصول طے کرتے ہیں، جن کا اطلاق چاند، مریخ اور اس سے آگے تک ہوتا ہے۔

یہ دستخط ناسا کے ساتھ مستقبل کی قمری تلاش کے مواقع کھولتا ہے، انسانیت کی چاند پر واپسی کو آگے بڑھاتا ہے، اور حکومتوں اور نجی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا جواب دیتا ہے، جسے دریافت اور جدت کا سنہری دور قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

قمری صنعت سے وابستہ افراد کے لیے یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ آرٹیمس معاہدے پر ایک افریقی ملک کی شمولیت اس کے عالمی قبولیت میں اضافے کی علامت ہے، خصوصاً جب کہ آئیوری کوسٹ کے پاس اپنی خلائی ایجنسی بھی قائم ہے۔

یہ معاہدہ چاند اور اس سے آگے کی سرگرمیوں میں شفافیت، تحفظ اور تعاون کے اصولوں کو مضبوط کرتا ہے، اور ناسا کے ساتھ مل کر مستقبل کی قمری مہمات کے دروازے کھولتا ہے، جو چاند پر واپسی کی عالمی مہم کو تقویت دیتا ہے۔

پس منظر

آرٹیمس معاہدے 2020 میں ناسا اور امریکی محکمہ خارجہ نے قائم کیے تھے، جن کا مقصد چاند، مریخ اور اس سے آگے کی تلاش کے لیے عملی رہنما اصول فراہم کرنا ہے۔

ذرائع

  1. 1.NASA News Releases

یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے