CHAPEA Mission 2 کا ایک سال کا سنگِ میل درج
- CHAPEA Mission 2 نے 365 دن اور ایک سال کا سنگِ میل درج کیا۔
- چار افراد پر مشتمل عملہ ہیوسٹن میں 1700 مربع فٹ کے 3D-printed habitat میں مریخی مشن کی تیاری کر رہا ہے۔
- عملہ فصلیں اگا رہا ہے، محدود وسائل کا انتظام کر رہا ہے، مواصلاتی تاخیر کے ساتھ کام کر رہا ہے اور سوٹ پہن کر بیرونی سرگرمیاں انجام دے رہا ہے۔
- مشن کا اگلا سنگِ میل 31 اکتوبر 2026 ہے۔
- CHAPEA Mission 2 کا ڈیٹا آرٹیمس مشنز اور مستقبل کے طویل مریخی مشنز میں انسانی صحت اور کارکردگی کی تیاری میں مدد کر سکتا ہے۔
کیا ہوا
CHAPEA Mission 2 کے بارے میں 365 دن اور ایک سال کا سنگِ میل درج ہے۔
اس مشن میں چار افراد پر مشتمل عملہ شامل ہے۔
ہم کیا جانتے ہیں
یہ 3D-printed habitat Houston میں NASA کے Johnson Space Center پر قائم ہے اور اس کا رقبہ 1700 مربع فٹ ہے۔
عملے میں Ross Elder بطور مشن کمانڈر، Ellen Ellis بطور میڈیکل آفیسر، Matthew Montgomery بطور سائنس آفیسر اور James Spicer بطور فلائٹ انجینئر شامل ہیں۔
عملہ فصلیں اگا رہا ہے، محدود وسائل کا انتظام کر رہا ہے، مواصلاتی تاخیر کے ساتھ کام کر رہا ہے اور سوٹ پہن کر بیرونی سرگرمیاں انجام دے رہا ہے۔
عملہ مصنوعی مریخی سطح پر کام کر رہا ہے اور خاندانوں سے صرف ای میل کے ذریعے رابطہ کر سکتا ہے۔
مشن کے اعداد و شمار میں 365 دن اور 378 دن کی مدت درج ہے۔
habitat کا سنگِ میل 19 اکتوبر 2025 اور مشن کا ایک سنگِ میل 31 اکتوبر 2026 درج ہے۔
NASA کی سائنس ٹیمیں صحت اور کارکردگی کے ڈیٹا کو پروسیس کرنے کے لیے تیار ہیں۔
CHAPEA کا مطلب Crew Health and Performance Exploration Analog ہے اور Grace Douglas اس کی principal investigator ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
یہ ڈیٹا محدود خوراک اور ورزش کے نظام، خودمختاری اور فیصلہ سازی کی معاونت پر روشنی ڈال سکتا ہے۔
NASA کا Human Research Program محفوظ اور پیداوار والا انسانی خلائی سفر ممکن بنانے کے لیے طریقے اور ٹیکنالوجیز تلاش کرتا ہے۔
اس پروگرام کی تحقیق آرٹیمس مشنز سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر ہوتی ہے اور یہ خلا بازوں کو صحت مند اور مشن کے لیے تیار رکھنے پر مرکوز ہے۔
یہ کاوش مستقبل کے طویل مریخی مشنز میں خلائی سفر کے خطرات سے نمٹنے کے طریقے بنانے سے بھی منسلک ہے۔
آگے کیا ہوگا
مشن کے لیے اگلا درج سنگِ میل 31 اکتوبر 2026 ہے۔
ذرائع
یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے