ناسا نے 2027 ہیومن لینڈر چیلنج کے لیے خیالات طلب کر لیے
- ناسا نے 2027 ہیومن لینڈر چیلنج کے لیے امریکا میں قائم کالجیٹ ٹیموں اور فیکلٹی ایڈوائزرز سے خیالات طلب کیے ہیں۔
- تجویزی پیکجز میں 5 سے 7 صفحات کی تجویز اور 2 منٹ کی ویڈیو شامل ہوگی، اور آخری تاریخ 4 مارچ 2027 ہے۔
- چیلنج میں خلا بازوں، روورز، رہائشی مقامات، لینڈر اور زمین پر موجود مشن سپورٹ ٹیموں کو جوڑنے والے لچکدار مواصلاتی حل طلب کیے جا رہے ہیں۔
- فائنلسٹ ٹیموں کو 9000 امریکی ڈالر، جبکہ سرفہرست تین ٹیموں کو 18000 امریکی ڈالر دیے جائیں گے۔
- دوسرے مرحلے کا فائنل ڈیزائن ریویو ہنٹسویل، الاباما میں 21 اور 24 جون 2027 کو ہوگا۔
کیا ہوا
ناسا نے 2027 ہیومن لینڈر چیلنج کے لیے خیالات طلب کیے ہیں۔ یہ چیلنج امریکا میں قائم کالجیٹ ٹیموں اور فیکلٹی ایڈوائزرز کے لیے کھولا گیا ہے۔
ہم کیا جانتے ہیں
چیلنج کے لیے تین سے پانچ سال کی مدت کا ذکر ہے، اور ناسا نے تین اہم کیٹیگریز رکھی ہیں۔ ٹیمیں فوکس ایریاز سے ہٹ کر بھی حل تجویز کر سکتی ہیں۔
تجویزی پیکجز کے لیے تاریخ 4 مارچ 2027 مقرر ہے۔ تجویزی پیکجز میں پانچ سے سات صفحات کی تجویز اور دو منٹ کی ویڈیو شامل ہوگی۔
پہلے مرحلے میں زیادہ سے زیادہ 12 فائنلسٹ ٹیمیں منتخب کی جائیں گی، اور فائنلسٹ ٹیموں کو 9000 امریکی ڈالر ملیں گے۔
سرفہرست تین ٹیموں کو 18000 امریکی ڈالر دیے جائیں گے۔
ہیومن لینڈر چیلنج نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایرواسپیس کے زیرِ انتظام ہے۔ اس کی سرپرستی ناسا کے ہیومن اسپیس فلائٹ مشن ڈائریکٹوریٹ کا ہیومن لینڈنگ سسٹم پروگرام آفس کر رہا ہے۔
ایک لچکدار مواصلاتی نظام خلا بازوں، روورز، رہائشی مقامات، لینڈر اور زمین پر موجود مشن سپورٹ ٹیموں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ قابلِ اعتماد مواصلات حفاظت، آپریشنز اور فیصلہ سازی کے لیے ضروری ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
ناسا چاند پر طویل المدتی انسانی موجودگی کی تیاری کر رہا ہے، اور ایسے مواصلاتی حل حفاظت، آپریشنز اور فیصلہ سازی کے لیے اہم ہیں۔
کالجیٹ ٹیموں سے خیالات طلب کرنا چاند کے مواصلاتی ڈھانچے کے لیے نئے حل تلاش کرنے کا موقع ہے، جس میں خلا باز، روور، رہائشی مقامات، لینڈر اور زمین پر ٹیمیں شامل ہیں۔
آگے کیا ہوگا
تجویزی پیکجز کے لیے تاریخ 4 مارچ 2027 مقرر ہے۔
دوسرے مرحلے کا فائنل ڈیزائن ریویو ہنٹسویل، الاباما میں ہوگا، جو ناسا کے مارشل اسپیس فلائٹ سینٹر کا مقام ہے۔ اس کے لیے 21 جون 2027 اور 24 جون 2027 کی تاریخیں دی گئی ہیں۔
ذرائع
یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے