اسٹیفن کیش ناسا کے مارشل اسپیس فلائٹ سینٹر کے ڈائریکٹر مقرر
- اسٹیفن کیش ناسا کے مارشل اسپیس فلائٹ سینٹر کے نئے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔
- وہ قائم مقام ڈائریکٹر رے این مئیر کی جگہ یہ عہدہ سنبھالیں گے۔
- مارشل سینٹر ہنٹس ویل، الاباما میں واقع ناسا کا بڑا فیلڈ سینٹر ہے۔
- سینٹر آرٹیمس پروگرام، اسپیس لانچ سسٹم اور ہیومن لینڈنگ سسٹم میں اہم کردار رکھتا ہے۔
- کیش ناسا سے ریٹائر انجینئر ہیں اور انہیں الاباما انجینئرنگ ہال آف فیم میں شامل کیا گیا ہے۔
کیا ہوا
اسٹیفن کیش کو ناسا کے مارشل اسپیس فلائٹ سینٹر کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے۔
رے این مئیر قائم مقام سینٹر ڈائریکٹر تھیں، اور اسٹیفن کیش ان کے بعد یہ عہدہ سنبھالیں گے۔
ہم کیا جانتے ہیں
اسٹیفن کیش مارشل اسپیس فلائٹ سینٹر کے ڈائریکٹر مقرر کیے گئے ہیں اور اسی سینٹر کی قیادت کے لیے واپس آئے ہیں۔
رے این مئیر قائم مقام سینٹر ڈائریکٹر تھیں، اور اسٹیفن کیش ان کے بعد اس عہدے پر آئیں گے۔
رے این مئیر ڈپٹی سینٹر ڈائریکٹر اور ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر بھی رہ چکی ہیں۔
مارشل اسپیس فلائٹ سینٹر ہنٹس ویل، الاباما میں واقع ہے اور ناسا کے بڑے فیلڈ سینٹرز میں سے ایک ہے۔
اسٹیفن کیش تجربہ کار ناسا انجینئر اور ایرو اسپیس ایگزیکٹو ہیں، اور انہوں نے مارشل سے اپنے ناسا کیریئر کا آغاز کیا تھا۔
انہوں نے مارشل کے اسپیس شٹل پروپلشن آفس کے منیجر اور سیفٹی اینڈ مشن ایشورنس ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
وہ ناسا سے ریٹائر ہو چکے ہیں، ایگزینٹ میں ایڈوانسڈ اسپیس سسٹمز کے نائب صدر رہے ہیں اور انہیں الاباما انجینئرنگ ہال آف فیم میں شامل کیا جا چکا ہے۔
مارشل سینٹر پروپلشن، خلائی نظام، سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی ترقی کی سرگرمیوں کا پورٹ فولیو رکھتا ہے اور پروپلشن کے لیے سینٹر آف ایکسیلنس ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
قمری صنعت کے لیے اس تقرری کی اہمیت اس لیے ہے کہ مارشل ناسا کے بڑے فیلڈ سینٹرز میں سے ہے اور پروپلشن، خلائی نظام، سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی ترقی کی سرگرمیاں اس کے پورٹ فولیو میں شامل ہیں۔
یہ سینٹر آرٹیمس پروگرام میں اہم کردار رکھتا ہے، اسپیس لانچ سسٹم کی تیاری اور ہیومن لینڈنگ سسٹم پروگرام کی ذمہ داری بھی اس کے پاس ہے۔
سینٹر چاند کی مسلسل کھوج اور مریخ کے مستقبل کے مشنوں کی حمایت کرتا ہے، اور جوہری توانائی اور پروپلشن کی ترقی میں بھی اس کا کلیدی کردار ہے۔
ذرائع
یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے