ناسا اور امریکی محکمہ توانائی کا خلائی جوہری معاہدہ
- ناسا اور امریکی محکمہ توانائی نے واشنگٹن میں خلائی جوہری توانائی و پروپلشن کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔
- Space Reactor-1 Freedom کا آغاز 2028 میں ہوگا اور یہ Lunar Reactor-1 کی راہ ہموار کرے گا۔
- Lunar Reactor-1 ایک fission surface power system ہوگا جو مستقبل کے چاند کے بیس کو برقرار رکھے گا۔
- Dragonfly 2028 میں زحل کے چاند Titan پر MMRTG اور 24 Light Weight Radioisotope Heater Units لے کر جائے گا۔
- ناسا اور ڈی او ای ESA کے Rosalind Franklin مشن کی حمایت کرتے ہیں، جس میں 24 ہیٹر یونٹس شامل ہیں۔
کیا ہوا
ناسا اور امریکی محکمہ توانائی نے خلائی جوہری توانائی اور پروپلشن میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ یہ یادداشت واشنگٹن میں ڈونلڈ جے ٹرمپ انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں طے پائی۔
ہم کیا جانتے ہیں
مفاہمتی یادداشت ناسا اور امریکی محکمہ توانائی کے درمیان تعاون کا ڈھانچہ قائم کرتی ہے اور جوہری ٹیکنالوجیز کو آگے بڑھانے کی شراکت کا حصہ ہے۔
یہ یادداشت خلائی جوہری ترقی میں اداروں کو جوڑتی ہے اور حفاظت کو مرکزی ستون قرار دیتی ہے؛ دستخط Isaacman اور Wright نے ڈونلڈ جے ٹرمپ انسٹی ٹیوٹ آف پیس، واشنگٹن میں کیے۔
امریکی خلائی برتری یقینی بنانے سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر دسمبر 2025 میں جاری ہوا اور اس نے ناسا کو چاند پر ری ایکٹر کی ہدایت دی۔
Space Reactor-1 Freedom کا آغاز 2028 میں ہوگا اور یہ گہرے خلا کے آپریشنل استعمال کا مرحلہ ہے؛ یہ Lunar Reactor-1 کی راہ ہموار کرے گا۔
Lunar Reactor-1 ایک fission surface power system ہوگا اور مستقبل کے چاند کے بیس کو برقرار رکھے گا۔
جوہری توانائی چاند کے بنیادی ڈھانچے کو توانائی دیتی ہے اور مریخ کے مشنز کے لیے ضروری ہے؛ SR-1 اور LR-1 جوہری-خلائی صنعتی بنیاد اور قمری چوکیوں کو طاقت دینے کے لیے تیار ہیں۔
Dragonfly 2028 میں زحل کے چاند Titan کی طرف جائے گا اور Titan کی رہائش پذیری کی تحقیقات کرے گا؛ اس میں Multi-Mission Radioisotope Thermoelectric Generator اور 24 Light Weight Radioisotope Heater Units شامل ہیں۔
ناسا اور ڈی او ای ESA کے Rosalind Franklin مشن کی حمایت کرتے ہیں؛ مریخ پر یہ روور 24 اسی طرح کے ہیٹر یونٹس سے آلات کا درجہ حرارت برقرار رکھتا ہے اور ممکنہ حیات کا مطالعہ کرتا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
قمری شعبے کے لیے اہم بات یہ ہے کہ ناسا اور امریکی محکمہ توانائی خلائی جوہری توانائی کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک پر آ گئے ہیں، جس میں حفاظت کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔
چاند کے ری ایکٹر، مستقبل کے چاند کے بیس اور قمری چوکیوں کے لیے جوہری توانائی کا ذکر اس شعبے کی بنیادی سمت واضح کرتا ہے؛ مریخ مشنوں کے لیے بھی جوہری توانائی ضروری بتائی گئی ہے۔
آگے کیا ہوگا
Space Reactor-1 Freedom 2028 میں لانچ ہوگا اور Lunar Reactor-1 کی راہ ہموار کرے گا۔
Dragonfly بھی 2028 میں زحل کے چاند Titan کی طرف روانہ ہوگا۔
ذرائع
یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے