ناسا نے اوپن سائنس پر دو حصوں کا ورکشاپ سلسلہ منعقد کیا
- ناسا نے اوپن سائنس پر دو حصوں کا ورچوئل ورکشاپ سلسلہ منعقد کیا۔
- پہلا سیشن اوپن سائنس کے اصولوں اور نفاذ پر تھا، جبکہ دوسرا سیشن ٹولز پر تھا۔
- ورکشاپ سلسلے کے اعلان کی تاریخ 28 جولائی 2026 تھی۔
- ناسا نے پلانٹری ڈیٹا سسٹم پیش کیا، جو سیاروی سائنس ڈیٹا کا ایک بنیادی آرکائیو ہے۔
- آرٹیمس ایکارڈز پر 71 ممالک نے دستخط کیے ہیں، اور آئی ایس آر او نے مئی 2026 میں اوپن ڈیٹا گفتگو کی قیادت کی۔
کیا ہوا
ناسا نے دو حصوں پر مشتمل ورچوئل ورکشاپ سلسلہ منعقد کیا۔
اس میں اوپن سائنس کے اصولوں، نفاذ کے طریقوں اور ٹولز پر بات ہوئی۔
ہم کیا جانتے ہیں
ناسا کے دو حصوں پر مشتمل ورکشاپ سلسلے میں پہلا سیشن اوپن سائنس کے اصولوں اور نفاذ کے طریقوں پر مرکوز تھا، جبکہ دوسرے سیشن میں اوپن سائنس کے ٹولز پر توجہ دی گئی۔
ورکشاپ سلسلے کے اعلان کی تاریخ 28 جولائی 2026 ہے۔
ناسا نے پلانٹری ڈیٹا سسٹم پیش کیا، جو ناسا کے سیاروی سائنس ڈیٹا کے بنیادی آرکائیوز میں سے ایک ہے۔
آرٹیمس ایکارڈز 2020 میں ناسا اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے سات دیگر بانی ممالک کے ساتھ مل کر قائم کیے، اور ان پر 71 ممالک نے دستخط کیے ہیں۔
یہ ایکارڈز قمری سرگرمیوں میں بڑھتی دلچسپی کے جواب میں قائم کیے گئے۔
بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے (آئی ایس آر او) نے مئی 2026 میں اوپن ڈیٹا طریقوں کو آگے بڑھانے پر گفتگو کی قیادت کی۔
یہ کیوں اہم ہے
قمری سرگرمیوں میں بڑھتی دلچسپی کے تناظر میں آرٹیمس سائنس کی عالمی شیئرنگ اور اوپن سائنس ٹولز پر توجہ قمری صنعت کے لیے اہم ہے۔
71 ممالک کی دستخطیں آرٹیمس ایکارڈز کے گرد بین الاقوامی دلچسپی دکھاتی ہیں، جبکہ آئی ایس آر او کی اوپن ڈیٹا گفتگو اسی شعبے سے جڑی ہے۔
آگے کیا ہوگا
ناسا آرٹیمس سائنس کو عالمی سائنسی برادری کے ساتھ شیئر کرے گا۔
ذرائع
یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے