آرٹیمس ٹو کا عملہ ہیوسٹن میں عوامی تقریب میں شرکت کرے گا

قمری مشن کی تکمیل کے بعد آرٹیمس ٹو کا عملہ یونیورسٹی آف ہیوسٹن کے فرٹیٹا سینٹر میں مفت عوامی تقریب میں شرکت کرے گا۔ نیشنل ایروناٹک ایسوسی ایشن عملے کو ریکارڈ کے لیے تسلیم کرے گی۔

  • آرٹیمس ٹو چاند مشن مکمل ہونے کے بعد عملہ ہیوسٹن میں پہلی عوامی تقریب میں شرکت کرے گا۔
  • تقریب یونیورسٹی آف ہیوسٹن کے فرٹیٹا سینٹر میں شام 7 بجے CDT کو مفت ہوگی۔
  • مشن میں ایس ایل ایس اور اوریون استعمال ہوئے، اور یہ ایس ایل ایس پر روانہ ہونے والے پہلے خلاباز تھے۔
  • آرٹیمس ٹو نے 252756 میل طے کیے، جو انسانوں کے سفر کا سب سے دور فاصلہ ہے۔
  • تقریب کا تعلق پوسٹ فلائٹ مہم کے اختتام اور صنعتی و کمیونٹی شراکت داروں سے ہے۔

کیا ہوا

آرٹیمس ٹو کا چاند کا مشن مکمل ہو گیا ہے اور اس کے عملے کے لیے ہیوسٹن میں پہلی عوامی تقریب رکھی گئی ہے۔ یہ مفت تقریب یونیورسٹی آف ہیوسٹن کے فرٹیٹا سینٹر میں ہوگی اور اس کا تعلق پوسٹ فلائٹ مہم کے اختتام سے ہے۔

ہم کیا جانتے ہیں

آرٹیمس ٹو نے چاند کے گرد مدار میں پرواز کی اور مشن کی لینڈنگ کا مقام بحر الکاہل درج ہے۔

عملے میں ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوک اور جیریمی ہینسن شامل ہیں۔ وائزمین، گلوور اور کوک ناسا کے خلاباز ہیں، جبکہ ہینسن سی ایس اے خلاباز ہیں۔

مشن میں ایس ایل ایس (Space Launch System) اور اوریون استعمال ہوئے۔ یہ پہلے خلاباز تھے جو ایس ایل ایس پر روانہ ہوئے۔

مشن نے 252756 میل کا فاصلہ طے کیا، جو انسانوں کے سفر کا سب سے دور فاصلہ قرار دیا گیا ہے۔

ہیوسٹن کی تقریب 7 p.m. CDT پر فرٹیٹا سینٹر میں ہوگی اور مفت و عوامی ہے؛ یونیورسٹی آف ہیوسٹن میزبان مقام ہے اور تقریب کا تعلق صنعتی اور کمیونٹی شراکت داروں سے ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

انسانی سفر کا سب سے دور فاصلہ اور ایس ایل ایس پر پہلے خلابازوں کی پرواز، قمری صنعت کے لیے مشن کی وسعت اور لانچ سسٹم کی صلاحیت کو واضح کرتی ہے۔

حقائق کے مطابق ناسا آرٹیمس مشنز کو بتدریج مشکل بنانے، سائنسی دریافت، معاشی فوائد، چاند کی سطح پر مستقل انسانی موجودگی اور پہلے انسانی مریخ مشنز کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔

آگے کیا ہوگا

نیشنل ایروناٹک ایسوسی ایشن آرٹیمس ٹو کے عملے کو سب سے زیادہ فاصلہ طے کرنے کے ریکارڈ کے لیے تسلیم کرے گی۔

ذرائع

  1. 1.NASA News Releases

یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے