رچرڈ سپولزینو کی ٹیم نے چاند اور مریخ کے 25 معلوماتی خلا کی نشاندہی کی
- ناسا کے لینگلی ریسرچ سینٹر میں ٹیم نے چاند و مریخ کے بارے میں 25 نامعلوم امور کی نشاندہی کی۔
- یہ معلوماتی خلا ناپنے قابل ہدف رکھتے ہیں تاکہ صنعتی اور بین الاقوامی شراکت دار مخصوص ہدف پر کام کر سکیں۔
- قمری ریگولتھ کی جیوٹیکنیکل خصوصیات، جیسے وزن برداشت کرنے کی صلاحیت اور شیئر اسٹرینتھ، بھی نامعلوم امور میں شامل ہیں۔
- وویجر، جو پہلے ایسٹروبوٹک تھی، قمری لینڈر کمپنی ہے اور گریفن-1 مشن کی تیاری کر رہی ہے۔
- سپولزینو کی ٹیم نے وویجر کو آلات کے انتخاب میں مدد نہیں دی۔
کیا ہوا
رچرڈ سپولزینو کی ٹیم نے چاند اور مریخ کے بارے میں 25 معلوماتی خلا کی نشاندہی کی ہے۔ سپولزینو ناسا لینگلی ریسرچ سینٹر میں مون بیس مشن آرکیٹیکچر اور سسٹمز انٹرآپریبلٹی کوشش کے اندر کام کرتے ہیں۔
ہم کیا جانتے ہیں
رچرڈ سپولزینو ناسا لینگلی ریسرچ سینٹر میں کام کرتے ہیں، جو ورجینیا کے ہیمپٹن میں واقع ہے۔ وہ مون بیس مشن آرکیٹیکچر اور سسٹمز انٹرآپریبلٹی کوشش کے اندر کام کرتے ہیں، اور ان کا روزمرہ کام معلوماتی خلا پر مرکوز ہے۔
ناسا ابھی بھی چاند اور مریخ کے بارے میں نہیں جانتا۔ معلوماتی خلا علمی خلا کے مترادف ہے، اور یہ اس بات کی دستاویز ہے کہ ہم کیا نہیں جانتے۔ یہ ایک باقاعدہ دستاویز ہے جس میں ناپنے قابل ہدف ہوتا ہے۔
سپولزینو کی ٹیم کے پاس 25 معلوماتی خلا ہیں۔ صنعتی اور بین الاقوامی شراکت دار کسی مخصوص اور ناپنے قابل معلوماتی خلا کے ہدف پر کام کر سکتے ہیں۔
قمری ریگولتھ کی جیوٹیکنیکل خصوصیات میں وزن برداشت کرنے کی صلاحیت اور شیئر اسٹرینتھ شامل ہیں۔
وویجر، جو پہلے ایسٹروبوٹک تھی، ایک قمری لینڈر کمپنی ہے اور آئندہ گریفن-1 مشن کی تیاری کر رہی ہے۔ سپولزینو کی ٹیم نے وویجر کو آلات کے انتخاب میں مدد نہیں دی۔
یہ کیوں اہم ہے
قمری صنعت پر نظر رکھنے والوں کے لیے یہ معلوماتی خلا اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ناسا کو چاند اور مریخ کے بارے میں کیا معلوم نہیں ہے۔ چونکہ معلوماتی خلا ایک باقاعدہ اور ناپنے قابل ہدف رکھتا ہے، صنعتی اور بین الاقوامی شراکت دار کسی مخصوص ہدف پر کام کر سکتے ہیں۔
قمری ریگولتھ کی وزن برداشت کرنے کی صلاحیت اور شیئر اسٹرینتھ جیسی جیوٹیکنیکل خصوصیات بھی ان نامعلوم امور میں شامل ہیں۔ وویجر کی گریفن-1 مشن کی تیاری ایک قمری لینڈر کمپنی کی جاری سرگرمی ہے، جبکہ سپولزینو کی ٹیم نے وویجر کو آلات کے انتخاب میں مدد نہیں دی۔
آگے کیا ہوگا
وویجر، جو پہلے ایسٹروبوٹک تھی، آئندہ گریفن-1 مشن کی تیاری کر رہی ہے۔
ذرائع
یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے