آئی اسپیس جاکسا کے قمری شمسی ٹاور کے لیے منتخب

  • آئی اسپیس نے 22 اکتوبر 2026 کو اعلان کیا کہ جاکسا نے اسے بطور ٹھیکیدار منتخب کیا ہے۔
  • یہ انتخاب جاکسا کی مسابقتی تجاویز کی درخواست کے تحت چاند پر شمسی بجلی کے ٹاور کے تصوراتی ڈیزائن کے لیے ہوا۔
  • منصوبے کا مقصد 2030ء کی دہائی کے اوائل تک دسیوں کلو واٹ بجلی فراہم کرنا ہے، جس میں ٹاور ساخت اور شمسی صفیں شامل ہیں۔
  • چاند کا جنوبی قطب اعلیٰ عرض بلد علاقہ ہے جہاں سورج کی روشنی مسلسل کم زاویے پر پڑتی ہے، اس لیے مستحکم بجلی ضروری ہے۔
  • آئی اسپیس اب جاکسا کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دینے کی تیاری کر رہی ہے، اور ڈیزائن اگلے مالی سال اور اس کے بعد آگے بڑھایا جائے گا۔

کیا ہوا

آئی اسپیس نے 22 اکتوبر 2026 کو اعلان کیا کہ جاکسا نے اسے منتخب کیا ہے۔ یہ انتخاب قمری شمسی بجلی کے ٹاور کے تصوراتی ڈیزائن سے متعلق جاکسا کی مسابقتی تجاویز کی درخواست کے تحت ہوا۔

ہم کیا جانتے ہیں

آئی اسپیس جاکسا کے لیے بطور ٹھیکیدار منتخب ہوئی ہے اور اعلان 22 اکتوبر 2026 کو کیا گیا۔

یہ کام قمری شمسی بجلی کے ٹاور کے تصوراتی ڈیزائن کے حصوں اے اور بی کے لیے جاکسا کی مسابقتی تجاویز کی درخواست کے تحت ہے۔

تصوراتی ڈیزائن نظام کی ضروریات، تفصیلات اور منصوبے متعین کرے گا، اور چاند کے جنوبی قطب کے علاقے میں سرگرمیوں کی حمایت کرے گا۔

مقصد 2030ء کی دہائی کے اوائل تک دسیوں کلو واٹ کی سطح پر بجلی کی فراہمی ہے، اور نظام میں ٹاور ساخت کے ساتھ شمسی صفیں شامل ہیں۔

آئی اسپیس شراکتی اداروں کے ساتھ قمری شمسی بجلی کے ٹاور اور تقسیمِ بجلی کے نظام کا تصور تیار کرے گی، اور ضروریات، تفصیلات، لینڈر کے جوڑ اور آئندہ ترقیاتی منصوبے متعین کرے گی۔

چاند کا جنوبی قطب ایک اعلیٰ عرض بلد علاقہ ہے جہاں سورج کی روشنی مسلسل کم زاویے پر پڑتی ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

چاند کی سطح پر مستقل سرگرمیوں کے لیے مستحکم بجلی کی ضرورت کو اہم بتایا گیا ہے، اور یہ منصوبہ بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی تعریف سے متعلق ہے۔

جنوبی قطب میں روشنی کا مسلسل کم زاویہ اور دسیوں کلو واٹ کی فراہمی کا ذکر، آئی اسپیس کی قمری سطح اور سِس لونر خلا کے بنیادی ڈھانچے کی کاروباری تیاری کے تناظر میں اہم ہیں۔

آگے کیا ہوگا

آئی اسپیس جاکسا کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دینے کی تیاری کر رہی ہے۔

جاکسا اگلے مالی سال اور اس کے بعد کے لیے ڈیزائن کے طریقہ کار کو مزید آگے بڑھائے گا۔

ذرائع

  1. 1.ispace news

یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے