اسپن لانچ اور میریڈین اسپیس دو آزاد کمپنیوں میں جدا ہو رہی ہیں

  • 28 ستمبر 2026 کو اعلان کیا گیا کہ میریڈین اسپیس اسپن لانچ سے الگ ہو کر سیٹ کام انفراسٹرکچر کا آزاد کاروبار چلائے گی۔
  • پہلا خلائی مظاہرہ ریفلیکٹ ارے ٹیکنالوجی سے بنے صارف لنک کو دکھائے گا۔
  • 250 سیٹ کام سیٹلائٹس کے منصوبے میں ہلکی، فلیٹ بسیں اور نینو ایویونکس کے پہلے بیچ شامل ہیں۔
  • مکمل خلائی، لانچ اور زمینی نظام کی لاگت ایک ارب امریکی ڈالر سے کم بتائی گئی ہے۔
  • میریڈین ایکسپریس اور سیٹلائٹ ایکسپریس کے لیے لانچ تاریخ 2027 دی گئی ہے۔

کیا ہوا

اسپن لانچ اور میریڈین اسپیس دو آزاد کمپنیوں میں جدا ہو رہی ہیں۔ میریڈین اسپیس اسپن لانچ سے اسپن آؤٹ ہے اور ایک آزاد تجارتی خلائی کمپنی کے طور پر سیٹ کام انفراسٹرکچر کا کاروبار آگے بڑھائے گی۔

ہم کیا جانتے ہیں

اعلان کی تاریخ 28 ستمبر 2026 ہے۔ کیلیفورنیا میں قائم اسپن لانچ اور میریڈین اسپیس دو آزاد کمپنیوں میں جدا ہو رہی ہیں۔

میریڈین اسپیس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ماسیمیلیانو لاڈووَز ہیں۔ وہ 2020 سے اسپن لانچ کے سیٹلائٹ ڈیولپمنٹ یونٹ کی نگرانی کر رہے تھے، جبکہ اسپن لانچ 2020 سے ایک یونٹ کے تحت سیٹ کام ٹیکنالوجی پر کام کر رہی تھی جو بعد میں میریڈین اسپیس کہلایا۔

میریڈین اسپیس سیٹ کام انفراسٹرکچر کا کاروبار جاری رکھے گی اور صارفین کو سیٹ کام نیٹ ورک کی ملکیت کا تیسرا راستہ دینا چاہتی ہے۔ ٹیکنالوجی شراکت داروں کے لیے آسانی سے بنانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے، جس سے کسی بھی ملک میں خودمختار سیٹ کام نظام کی راہ کھلتی ہے۔

پہلا خلائی مظاہرہ اپنے اندر تیار کردہ ریفلیکٹ ارے ٹیکنالوجی کے پہلے صارف لنک کو دکھانے کے لیے ہے۔ یہ ریفلیکٹ ارے اینٹینا اسمبلیاں سیٹلائٹ پے لوڈز کی بجلی کی کھپت کم کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں، موجودہ سیٹ کام پے لوڈز سے کم بجلی لیتی ہیں، اور روایتی فیزڈ ارے نظاموں کے مقابلے میں حرارت کا اخراج اور بجلی کا استعمال گھٹاتی ہیں۔

منصوبے کے تحت 250 سیٹلائٹس کم زمین کے مدار میں بھیجنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ میریڈین اسپیس کے سیٹلائٹس مارکیٹ میں موجود دیگر سیٹ کام سیٹلائٹس سے ہلکے اور چھوٹے بتائے گئے ہیں۔

سیٹلائٹ بسیں فلیٹ اور ہلکی ہوں گی تاکہ وزن کم رہے اور فیئرنگ میں زیادہ کثافت سے پیک کیا جا سکے۔ طویل مدتی ہدف یہ ہے کہ ریفلیکٹ ارے اینٹینا فلیٹ سیٹلائٹ بسوں پر اڑائے جائیں اور ایک مخصوص لانچ پر 250 سے زائد سیٹلائٹس کا جھرمٹ بھیجا جا سکے۔

پہلے بیچ کی سیٹلائٹ بسیں نینو ایویونکس بنائے گی۔ یہ بسیں میریڈین کے ریفلیکٹ ارے مواصلاتی پے لوڈز کو معیاری سیٹلائٹ ڈھانچوں میں ضم کریں گی۔

مکمل نظام، جس میں خلائی حصہ، لانچ اور زمینی حصہ شامل ہیں، کی لاگت ایک ارب امریکی ڈالر سے کم بتائی گئی ہے۔ ہدف میں خودمختار حکومتیں، علاقائی سیٹلائٹ آپریٹرز اور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیاں ہیں، اور کمپنی پہلے صارفین کے معاہدے طے کرنے پر کام کر رہی ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

قمری معیشت پر نظر رکھنے والوں کے لیے اہم ہے کہ اسپن لانچ کم لاگت لانچ کے وژن کو ہائپرسونکس ایپلی کیشنز کے ساتھ جاری رکھے گی، جو گولڈن ڈوم پروگرام اور قمری معیشت کی حمایت کرتی ہیں۔

اسپن لانچ کو ایک ایسے کائنیٹک لانچر کا پیٹنٹ ملا ہے جو پتلی فضا والے سیارہ جسم پر نصب کیا جا سکے۔ یہ پیٹنٹ چاند سے زمین یا خلا کی گہرائی میں پے لوڈ بھیجنے کے امکان کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔

آگے کیا ہوگا

میریڈین ایکسپریس اور سیٹلائٹ ایکسپریس پروگرام کے لیے لانچ تاریخ 2027 دی گئی ہے۔

اسپن لانچ قریب مستقبل میں قیادت، وژن اور منصوبوں کی مزید تفصیلات جاری کرے گی۔

ذرائع

  1. 1.Payload
  2. 2.SatNews

یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے