ڈرین برین 2.0 نے مدار میں وریدی نبض ریکارڈ کرنے والا نظام تیار کیا
- ڈرین برین 2.0 کے تحت تیار کردہ پلتھسموگرافک نظام مدار میں گردن کی وریدی نبض ریکارڈ کر سکتا ہے۔
- یہ منصوبہ اطالوی خلائی ایجنسی ASI اور یونیورسیتا دیلی اسٹوڈی دی فیرارا Unife کے تعاون سے چل رہا ہے۔
- محققین نے مصنوعی ذہانت پر مبنی تکنیک آزمائی ہے جو مختصر الٹراساؤنڈ ویڈیو کلپس کا حقیقی وقت میں تجزیہ کر کے نبض خودکار طور پر نکالتی ہے۔
- پہلے خلائی الٹراساؤنڈ میں اکیلی تصاویر تک محدود جانچ ممکن تھی، مگر نیا طریقہ وقت کے ساتھ وریدی نبض کی پیمائش کا ذریعہ ہے۔
- پلتھسموگرافک ڈیٹا کی آخری پروسیسنگ جاری ہے، نتائج کی وسیع آبادی پر توثیق درکار ہے، اور سائنسی اشاعت متوقع ہے۔
کیا ہوا
ڈرین برین 2.0 کے تحت ایک نیا پلتھسموگرافک نظام تیار کیا گیا ہے جو مدار میں موجود ہے۔
یہ نظام گردن کی وریدی نبض ریکارڈ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ہم کیا جانتے ہیں
ڈرین برین 2.0 اطالوی خلائی ایجنسی (ASI) کا منصوبہ ہے اور اس میں یونیورسیتا دیلی اسٹوڈی دی فیرارا (Unife) کے ساتھ تعاون شامل ہے۔
تیار کردہ پلتھسموگرافک نظام مدار میں ہے اور گردن کی وریدی نبض ریکارڈ کر سکتا ہے۔
محققین نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک تکنیک تیار کی اور آزمائی ہے۔
یہ تکنیک مختصر الٹراساؤنڈ ویڈیو کلپس کا حقیقی وقت میں تجزیہ کر کے وریدی نبض خودکار طور پر حاصل کرتی ہے۔
گردن کی رگوں کی الٹراساؤنڈ جانچ اکیلی تصاویر کے ذریعے کی جاتی تھی، اور خلا میں اب تک استعمال ہونے والی تکنیکوں میں وقت کے ساتھ نبض کی پیمائش ممکن نہیں تھی۔
ان نتائج کو وسیع آبادی پر توثیق کی ضرورت ہے۔
Unife کے تیار کردہ نظام کو خلائی مشنوں میں معمول کی صحت نگرانی کے آلے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کے زمین پر بھی ممکنہ استعمال ہیں، جبکہ پلتھسموگرافک ڈیٹا کی آخری پروسیسنگ جاری ہے اور سائنسی نتائج کی اشاعت متوقع ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
خلائی مشنوں میں عملے کی صحت کی نگرانی کے لیے ایسے آلے کی اہمیت ہے جو معمول کے استعمال کے لیے موزوں ہو؛ یہ نظام اسی مقصد کے لیے بیان کیا گیا ہے۔
پہلے کی خلائی تکنیکوں میں وقت کے ساتھ نبض کی پیمائش ممکن نہیں تھی؛ نیا طریقہ وریدی نبض خودکار طور پر حاصل کرتا ہے اور مختصر الٹراساؤنڈ کلپس کا حقیقی وقت میں تجزیہ کرتا ہے۔
آگے کیا ہوگا
پلتھسموگرافک ڈیٹا کی آخری پروسیسنگ جاری ہے اور سائنسی نتائج کی اشاعت متوقع ہے۔
ذرائع
یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے