روزیٹا کی 2015 کی کومیٹ 67P تصویر اور مشن کا اختتام

پس منظر

  • روزیٹا کے OSIRIS کیمرے سے 25 جولائی 2015 کو کومیٹ 67P کی دو تصویروں سے اینیگلف بنایا گیا۔
  • یہ تصاویر 184 کلومیٹر کے فاصلے پر حاصل کی گئی تھیں۔
  • کومیٹ 67P کا مرکزہ کھردرا اور دو لوبوں والا ہے؛ چھوٹا لوب 2.5 کلومیٹر کا ہے۔
  • کومیٹ سے جیٹس نکل رہے تھے اور وہ سورج کے قریب ترین نقطے کے قریب تھا۔
  • روزیٹا کا مشن ستمبر 2016 میں کومیٹ کی سطح پر کنٹرول شدہ ٹکراؤ کے ساتھ ختم ہوا۔

کیا ہوا

25 جولائی 2015 کو روزیٹا کے تنگ زاویہ والے OSIRIS کیمرے سے حاصل شدہ تصویروں کو ملا کر کومیٹ 67P کا اسٹیریو اینیگلف بنایا گیا۔ ستمبر 2016 میں روزیٹا کا مشن کومیٹ کی سطح پر کنٹرول شدہ ٹکراؤ کے ساتھ ختم ہوا۔

ہم کیا جانتے ہیں

اینیگلف دو تصویروں کو ملا کر بنایا گیا۔ یہ تصاویر 25 جولائی 2015 کو روزیٹا کے تنگ زاویہ والے OSIRIS کیمرے سے حاصل کی گئیں، اور اس وقت فاصلہ 184 کلومیٹر تھا۔

کومیٹ 67P کا مرکزہ کھردرا اور دو لوبوں والا دکھایا گیا ہے۔ چھوٹا لوب 2.5 کلومیٹر کا ہے، اور دونوں لوب ایک تنگ گردن سے جڑے ہیں۔ کومیٹ سے جیٹس نکل رہے تھے، اور وہ سورج کے قریب ترین نقطے کے قریب تھا۔

روزیٹا کا مشن ستمبر 2016 میں ختم ہوا۔ اس کا اختتام کومیٹ کی سطح پر کنٹرول شدہ ٹکراؤ سے ہوا۔

یہ کیوں اہم ہے

قمری صنعت پر نظر رکھنے والے قارئین کے لیے اہم نکتہ یہ ہے کہ 184 کلومیٹر کے فاصلے سے دو تصویروں کو ملا کر بنایا گیا اینیگلف کومیٹ 67P کی کھردری، دو لوبوں والی ساخت اور جیٹس کی سرگرمی دکھاتا ہے۔ ستمبر 2016 میں کومیٹ کی سطح پر کنٹرول شدہ ٹکراؤ مشن کے اختتام کی واضح پیمائش ہے۔

ذرائع

  1. 1.NASA News Releases

یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے