خلا میں میٹل تھری ڈی پرنٹر نے پانچواں نمونہ بنا لیا
- خلا میں موجود میٹل 3D پرنٹر نے پانچواں نمونہ تیار کر لیا ہے۔
- یہ خلا میں پہلا میٹل 3D پرنٹر ہے اور 2024 میں پہنچایا گیا تھا۔
- ایپسیلون مشن کے عملے میں شامل صوفی ایڈنوت کو پانچواں نمونہ حاصل کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
- خلا میں پرنٹ شدہ نمونوں کا موازنہ زمین پر تیار کردہ حوالہ پرنٹس سے کیا جا رہا ہے۔
- اگلی پرنٹ سرگرمی رواں سال کے آخر میں ہوگی۔
کیا ہوا
خلا میں موجود میٹل تھری ڈی پرنٹر نے پانچواں نمونہ تیار کیا ہے۔ ایپسیلون مشن کے عملے میں شامل صوفی ایڈنوت کو یہ نمونہ حاصل کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
ہم کیا جانتے ہیں
میٹل تھری ڈی پرنٹر 2024 میں پہنچایا گیا تھا اور یہ خلا میں پہلا میٹل تھری ڈی پرنٹر ہے۔ یہ ایک ٹیکنالوجی ڈیمونسٹریٹر ہے۔
پانچواں نمونہ تیار کیا جا چکا ہے۔ ایپسیلون مشن کے عملے میں شامل صوفی ایڈنوت کو پانچواں نمونہ حاصل کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔
3 پرنٹ شدہ نمونے زمین پر واپس لائے جا چکے ہیں۔ پرنٹ شدہ نمونوں کا موازنہ زمین پر تیار کردہ حوالہ پرنٹس سے کیا جاتا ہے۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کا مدار 400 کلومیٹر ہے۔ 2026 سے اب تک 6 کارگو مشن بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے روانہ ہوئے ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
خلا میں پہلا میٹل تھری ڈی پرنٹر ہونا اور پانچواں نمونہ تیار کرنا اس بات کی جانچ ہے کہ دھاتی پرنٹنگ خلا میں کیسے کام کرتی ہے۔ پرنٹ شدہ نمونوں کا زمین پر تیار کردہ حوالہ پرنٹس سے موازنہ کیا جا رہا ہے، اور تھری ڈی پرنٹرز کو عملے کی خود مختاری کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
آگے کیا ہوگا
اگلی پرنٹ سرگرمی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ رواں سال کے آخر میں ہوگی۔
ذرائع
یہ تحریر اوپر دیے گئے ذرائع کی بنیاد پر AI نظاموں نے لکھی ہے اور خودکار طور پر جانچی گئی ہے؛ اس کا کوئی انفرادی مصنف نہیں۔ یہ سائٹ کیسے کام کرتی ہے